سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 108، تین لاکھ متاثر

Image caption ​این ڈین ایم اے کے مطابق ملک میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک 770 دیہات متاثر ہوئے ہیں

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک 108 افراد ہلاک جبکہ تین لاکھ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔

این ڈین ایم اے کی ویب سائٹ پر جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 30، خیبر پختونخوا میں 24، سندھ میں 22، بلوچستان میں 16 ، قبائلی علاقہ جات میں 12 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اب تک 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 98، ایک لاکھ متاثر

خیبرپختون خوا میں شدید بارشوں سے تین افراد ہلاک

چترال: سیلابی ریلے سے مکانات، پُل تباہ

این ڈین ایم اے کے مطابق ملک میں سیلاب اور بارشوں سے 104 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 334764 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

این ڈین ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک 770 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

چنیوٹ میں دریائے چناب کے قریب ڈیڑھ سو سے زائد دیہات کو سیلاب کے خطرے سے خبردار کر دیا گیا ہے۔

دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث ضلع وہاڑی کی پانچ تحصیلوں کے لیے بھی سیلاب کے خطرے کی اطلاع دی گئی ہے۔

دوسری جانب ایک نہر کا پل گرنے کے باعث مریدکے اور نارروال کے درمیان ٹریفک معطل اور کم سے کم تیس دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 2427 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 2774 مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔

بارشوں اور سیلاب سے کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوئیں ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے صوبہ پنجاب میں 158580 ایکڑ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 4279 ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئیں ہیں۔

سنیچر کی صبح وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نے متعدد وزرا کے ہمراہ ضلع سیالکوٹ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے جائزہ لیا جن میں ظفر وال اور قلعہ احمدآباد شامل ہیں۔

ادھر فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج متاثرہ علاقوں میں اشیاء خردونوش فراہم کر رہے ہیں اور وہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عالمی طبی امدادی تنظیم میڈیسن ساں فرنٹئر کے کارکنوں نے اسہال کے مریضوں میں اضافے کی خبر دی تھی۔

طبی امدادی تنظیم میڈیسن ساں فرنٹئر جسے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز بھی کہا جاتا ہے، نے اگست کے اوائل میں کہا تھا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں محض ہنگو میں تین سو سے زائد افراد اسہال کی شکایت میں سامنے آئے تھے۔

اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، تنظیم کا کہنا تھا کہ اس نے ہنگو، کراچی اور کرم ایجنسی میں عارضی طبی امدادی مراکز قائم کر دیے ہیں۔

یاد رہے کہ ملک میں 2010 میں آنے والے سیلاب کے دوران ساڑھے آٹھ سو ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا اور درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ دو کروڑ سے زیادہ افراد کو غذائی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اسی بارے میں