ضمنی انتخابات: فوج کو عدالتی اختیارات

Image caption ضمنی انتخابات میں 1840 پولنگ سٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے بائیس اگست کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے بیالیس حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں فوج کو عدالتی اختیارات دے دیے ہیں۔

عدالتی اختیارات کے تحت فوجی افسر پولنگ سٹیشن پر ہونے والی دھاندلی یا امن وامان کی صورت حال سے متعلق فوری کارروائی کرنے کا اختیار ہوگا۔

پشاور:ضمنی انتخابات کے لیے سیاسی جوڑ توڑ

ضمنی انتخابات:پارٹی ٹکٹس پر اختلافات

اس سے پہلے گیارہ مئی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں مجسٹریٹ کے اختیارات صرف ریٹرنگ افسران کو دیے گئے تھے جبکہ مختلف پولنگ سٹیشنوں پر تعینات فوجی حکام کو مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل نہیں تھے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کمیشن کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوجی افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کا مقصد انتخابات کو شفاف بنانا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ گیارہ مئی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران کچھ حلقوں سے یہ شکایت ملی تھی کہ ریٹرنگ افسران نے پولنگ کے دوران دھاندلی کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔ اُنھوں نے کہا کہ ان شکایات کے ازالے کے لیے فوجی افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اگرچہ فوج سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں تاہم اجلاس میں موجود چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹری صاحبان کا کہنا تھا کہ سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں امدادی کام جاری ہے اور اگر چند دنوں کے لیے فوجی حکام ضمنی انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے تو امدادی کام متاثر نہیں ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ 1840 پولنگ سٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے جس کے اندر باہر فوج تعینات کی جائے گی۔

اشتیاق احمد خان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختون خوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں شدت پسندی کا خطرہ ہے اس لیے وہاں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کو ملتوی کر دیا جائے جسے الیکشن کمیش نے مسترد کردیا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ تمام حلقوں میں انتخابات 22 اگست کو ہی ہوں گے۔

اس سے قبل قائم مقام چیف الیکشن کمشنر تصدق حیسن جیلانی کی سربراہی میں الیکشن کمشن کا اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں کی چیف سیکرٹریز کے علاوہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل، محمکۂ موسمیات اور فوج کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اسی بارے میں