’جمود ختم کیے بغیر دہشت گردی پر قابو پانا ناممکن‘

نواز شریف
Image caption نواز شریف کا یہ خطاب ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان مختلف جہتوں اور سمتوں سے بعض سنگین بحرانوں میں گھرا ہوا ہے

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے عہدہ سنبھالنے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے ہم یہ اعتراف کریں کہ ہمارے انتظامی اداروں، ایجنسیوں اور سزا و جزا کے نظام نے خود کو دہشت گردی کے سنگین چیلنج سے عہدہ برا ہونے کا اہل ثابت نہیں کیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے مطابق قوم آج یہ سوال کرنے میں یقیناً حق بجانب ہے کہ ان سالوں میں ملک کے طول و عرض میں جاری اس قتل و غارت کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔

’ہمیں حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ متعلقہ اداروں پر طاری جمود کی کیفیت کو ختم کیے بغیر بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر قابو پانا ممکن نہیں ہے‘۔

’خطے کے مقدر کا فیصلہ پاکستان کے بغیر نہیں‘

موجودہ دورِ حکومت میں ہونے والے اہم حملے

آو جناح حاحب عمرے تلے چلیے

’امن کے لیے کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں‘

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں شدت پسندی کے واقعات کی تحقیقات اور اس ضمن میں عدالتی کارروائی پر بات کرتے ہوئے کہا: ’اگر ان واقعات میں ملوث مجرم پکڑے بھی جاتے ہیں تو انہیں گرفت میں لانے والے خوف کا شکار دکھائی دیتے ہیں، گرفت کے بعد تفتیش کے مرحلے میں مطلوبہ پیشہ وارانہ مہارت، لگن اور دلچسپی کو بروئے کار نہیں لایا جاتا ہے اور جب معاملہ قانون کے سامنے پیش ہوتا ہے تو عدالتی افسر ایسے مقدمات سننے سے گریزاں نظر آتے ہیں اور گواہوں کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے‘۔

وزیراعظم نے اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ’ اس کے بعد جیلیں ٹوٹتی ہیں اور دہشت گرد اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو بھگا لے جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں‘۔

مذاکرات کی دعوت اور طاقت کا استعمال

وزیرِاعظم نے عام انتخاب کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کو ملکی مسائل کے حل کے حوالے سے حکومت کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ’مصالحت اور افہام و تفہیم کی میری یہ پیشکش صرف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے لیے نہیں بلکہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر ان عناصر کو بھی بات چیت کی دعوت دیتا ہوں جو بدقسمتی سے انتہا پسندی کی راہ اپنا چکے ہیں۔‘

وزیراعظم کے مطابق حکومت کے پاس دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک سے زائد راستے موجود ہیں مگر دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس میں مزید معصوم انسانی جانیں ضائع نہ ہوں‘۔

شدت پسندی کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میں ہر پاکستانی کی طرح آگ اور خون کے اس کھیل کا جلد سے جلد خاتمہ چاہتا ہوں، چاہے یہ خاتمہ افہام و تفہیم کی میز پر بیٹھ کر ہو یا پھر بھرپور ریاستی قوت کے استعمال سے ہو، اور پاکستان کے تمام ادارے کسی تقسیم اور تفریق کے بغیر اس قومی مقصد پر یکسو ہیں‘۔

خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ملک کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کو درپیش مسائل اور دیگر قومی مسائل خارجہ پالیسی سے کسی نہ کسی طرح منسلک ہیں:

’ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اس امر پر بھی غور کرنا ہو گا کہ ہم نے اب تک اپنی خارجہ پالیسی سے کیا کھویا اور کیا پایا، بلاشبہ ہماری خارجہ پالیسی جرات مندانہ نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے، اور اس نظرثانی کے بغیر ہم اپنے قومی وسائل پاکستان کے غریب عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے وقف نہیں کر سکتے ہیں‘۔

بھارت کے ساتھ تعلقات اور افغان پالیسی

وزیراعظم نواز شریف نے پاک بھارت تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے عوام کو غربت جہالت اور پسماندگی سے نجات دلانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

’دونوں ملکوں کی قیادت کی یہ ذمہ داری ہے اور دونوں کی قیادت کو بخوبی علم ہونا چاہیے کہ ماضی کی جنگوں نے ہمیں برسوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ دنیا بھر کی تاریخ نے اس حقیقت کو ثابت کر دیا ہے کہ قوموں کی ترقی اور خوشحالی ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات میں مضمر ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے خواہشمند ہیں۔‘

افغانستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا: ’افغانستان کے حوالے سے بھی نئے سرے سے غور کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسی حکمت عملی بنانا ہو گی جس سے پاکستان کو دنیا بھر میں ایک نئے تابناک چہرے کے ساتھ پہچانا جائے۔‘

جنرل کیانی سے ملاقات

اس سے پہلے پیر کو ہی پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے وزیرِاعظم سے ملاقات کی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملاقات کے دوران حالیہ دہشت گردی کی لہر اور دفاع سے متعلق معاملات کے علاوہ سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرِاعظم نواز شریف کا یہ خطاب ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان مختلف جہتوں اور سمتوں سے بعض سنگین بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف ملک کی اندرونی سلامتی کی صورتحال اور دوسری جانب کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارت سے کشیدگی ان وعدوں کے پورا ہونے کی راہ میں بڑی مشکلات بن کر ابھری ہیں جو انہوں نے انتخابی مہم کے دوران لوگوں سے کیے تھے۔

اسی بارے میں