’سکندر حیات کیس میں بین الاقوامی گینگ ملوث‘

ملزم سکندر حیات
Image caption سکندر حیات نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں ایک مصروف علاقے کو پانچ گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا تھا

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پندرہ اگست کو اسلام آباد کے ایک بڑے تجارتی مرکز کو پانچ گھنٹے تک یرغمال رکھنے والے ملزم سکندر حیات کے ساتھ تعلقات کے شبہے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قریب ایک چوکی کے انچارج کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس کے علاوہ صوبہ پنجاب کے وسطی شہر حافظ آباد میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جمعرات کو ملزم سکندر حیات نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں ایک مصروف علاقے کو پانچ گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔

وزیر داخلہ نے پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا کہ اس واقعہ سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ملزم سکندر حیات کا اسلام آباد کے علاقے کو یرغمال بنائے رکھنے کا فعل ذاتی تھا لیکن جب اس کی تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس میں بین الاقوامی گینگ بھی ملوث ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش میں کچھ حساس پہلو بھی سامنے آئے ہیں جن کو ایوان میں پیش نہیں کیا جاسکتا البتہ اگر پارلیمانی لیڈر چاہیں تو وہ اُنہیں سپیکر کے چیمبر میں بریفنگ دینے کو تیار ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ملزم سکندر حیات نے پسرور میں جس اسلحہ ڈیلر سے اسلحہ خریدا تھا اُن کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ان افراد نے پولیس کو بتایا ہے کہ ملزم سکندر حیات نے اُنہیں چھ اگست کو اسلحہ خریدنے کے لیے ایک لاکھ روپے دیے تھے تاہم اُنہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے اسلحہ خرید رہے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حافظ آباد سے گرفتار ہونے والے کالعدم تنظیم کے رکن کے گھر سے جو معلومات اور شواہد ملے ہیں وہ انتہائی حساس ہیں جس کو ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وقوعے کے روز ملزم کو عارضی طور پر مفلوج کرنے والی گن اسلام آباد پولیس کے پاس نہیں تھی بعدازاں اس کا انتظام کر لیا گیا اور یہ گن صرف پانچ سے سات فٹ تک موثر ثابت ہو سکتی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں بھی کوئی حکمت عملی اختیار کی جاتی لیکن اس گن کو چلانے والا کوئی ماہر بھی موجود نہیں ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ میڈیا کو اس واقعے سے متعلق قواعد وضوابط کی پاسداری کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اُنہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کیسے ملزم کو گولی کا نشانہ بنا سکتے تھے جب میڈیا پر براہ راست اُس کی کوریج کی جا رہی تھی جو کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں دیکھا جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ پولیس نے ملزم سکندر حیات کی اہلیہ کو اس مقدمے میں گرفتار کر کے اُن کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ ملزم سکندر حیات پمز ہسپتال میں زیر علاج ہے جہاں پر پولیس نے اُن کا ابتدائی بیان ریکارڈ کیا ہے۔

اسی بارے میں