این اے پچیس میں ضمنی انتخاب ملتوی

Image caption ضمنی انتخابات میں 1840 پولنگ سٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے

پاکستان کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 25 میں جمعرات کو ہونے والے ضمنی انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے عہدیدار خورشید عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حلقے میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے یہ فیصلہ کیاگیا۔این اے 25 ڈیرہ اسماعیل کا حلقہ ہے اور یہ نشست جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خالی کی تھی۔

ضمنی انتخابات: فوج کو عدالتی اختیارات

پشاور:ضمنی انتخابات کے لیے سیاسی جوڑ توڑ

ضمنی انتخابات:پارٹی ٹکٹس پر اختلافات

خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پر بائیس اگست کو پولنگ ہونا تھی۔جس کے لیے بائیس سو سے زیادہ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ۔ان میں ساڑھے سات سو حساس اور کوئی تین سو پینتالیس پولنگ سٹینز انتہائی حساس قرار دیے جا چکے ہیں۔

ان انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز میں این اے پچیس ٹانک کم ڈیرہ اسماعیل کا حلقہ تھا جہاں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شدت پسندوں کے حملوں اور بم دھماکوں کی زد میں رہے ہیں۔

جولائی میں مسلح شدت پسندوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل پر حملہ کر کے 243 قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا جن میں 30 انتہائی خطرناک قیدی بھی شامل تھے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان شیراز پراچہ نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ صوبائی حکومت منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے تمام پولنگ سٹیشنز پر فوج تعینات ہوگی تاکہ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

شیراز پراچہ نے کہا کہ انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز کے اندر بھی کم سے کم دو فوجی اہلکار موجود ہوں گے تاکہ ووٹرز کو یہ یقین ہو کہ حکومت نے سکیورٹی کے تمام اقدامات کیے ہوئے ہیں۔

پشاور میں ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں کہ پشاور میں پولنگ سٹیشنز پر تعیناتی کے لیے نامزد خواتین عملے نے ڈیوٹی سرانجام دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے اور ان کا تعلق محکمۂ تعلیم سے ہے ۔

اس بارے میں الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا کہ یہ مسئلہ پیدا ہوا تھا لیکن مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کر دیا گیا ہے اور تمام عملے کو تربیت بھی دی جا چکی ہے ۔

خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ون پشاور ون ، این اے پانچ نوشہرہ این اے تیرہ صوابی اور این اے ستائیس لکی مروت میں منعقد ہوں گے۔ صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پر ضمنی انتخاب ہونا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخابات کے لیے امیدواروں کی انتخابی مہم جاری ہے لیکن کہیں کوئی زیادہ گہما گہمی نظر نہیں آ رہی ہے ۔

صوبے میں قومی اسمبلی کےتین حلقوں پر تحریک انصاف کا مقابلہ جمعیت علماء اسلام (ف) اور دو حلقوں پر عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں سے ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ون پشاور ون پر پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے والے تحریک انصاف کے امیدوار گل بادشاہ کا مقابلہ تجربہ کار سیاستدان غلام احمد بلور سے ہے جبکہ این اے پانچ نوشہرہ پانچ وزیرِعلیٰ پرویز خٹک کے داماد عمران خٹک کا مقابلہ عوامی نینشل پارٹی کے امیدوار داؤد خٹک سے ہوگا۔

اسی طرح این اے تیرہ صوابی اور این اے ستائیس لکی مروت پر تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام کے امیدوار مدِ مقابل ہیں۔ لکی مروت کے حلقے پر جے یو آئی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے بھائی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

بظاہر اس وقت مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں تحریک انصاف کے امیدواروں کی حمایت کر رہی ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اپنا اپنا اتحاد بنایا ہوا ہے ۔

ایک جانب پاکستان تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کا اتحاد ہے ۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی ، جمعیت علماء اسلام (ف)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ متحد نظر آتی ہیں۔

اسی بارے میں