پشاور کے مدرسے پر امریکہ کی مالی پابندیاں

امریکہ کے محکمۂ خزانہ نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع ایک مدرسے پر دہشت گردوں کی مدد کے الزام کے تحت مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

منگل کو امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پشاور کا مدرسہ جامعہ تعلیم القرآن والحدیث جو گنج مدرسہ کے نام سے بھی مشہور ہے، ایک تربیتی مرکز ہے اور یہ القاعدہ سمیت لشکر طیبہ اور طالبان کو مالی وسائل فراہم کرنے میں معاونت کرتا ہے۔

گنج مدرسے کے ناظم محمد ابراہیم نے پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ کوئی بھی شخص اصل حقائق جاننے کے لیے اس مدرسے میں آ سکتا ہے۔

محکمۂ خزانہ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مدرسے پر اس وجہ سے پابندیاں لگائی جا رہی ہیں کہ اسے دہشت گرد تنظیمیں استعمال کرتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمۂ عموماً مدرسوں پر پابندی عائد نہیں کرتا کیونکہ وہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی علاقوں میں تعلیم کے فروغ اور انسانی اور ترقیاتی امداد دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بیان کے مطابق گنج مدرسہ میں مذہبی تعلیم کی آڑ میں طالب علموں کو دہشت گرد کارروائیوں کے لیے انتہا پسند بنایا جاتا ہے اور بعض معاملات میں طالب علم بم تیار کرنے کے ماہر اور خودکش بمبار بن جاتے ہیں۔

اس مدرسے کے منتظم شیخ امین اللہ کے نام سے جانے جاتے ہیں اور ان پر 2009 میں امریکہ اور اقوام متحدہ نے القاعدہ اور طالبان کی حمایت کرنے پر مالی پابندیاں عائد کی دی تھیں۔

امریکہ کے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس سے متعلق معاملات کے نائب سیکرٹری ڈیوڈ ایس کوہن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس نیٹ ورک کے خلاف کلیدی کارروائی ہے جو خیراتی اداروں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور طالبان، لشکر طیبہ اور القاعدہ سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کو بنیادی سہولیات مہیا کرتا ہے۔

صرف درس و تدریس کا کام

بی بی سی کے نامہ نگار محمود جان بابر سے بات چیت کرتے ہوئے گنج مدرسہ کے ناظم محمد ابراہیم نے کہا کہ جس شیخ امین اللہ کے نام کے ساتھ منسلک کر کے اس مدرسے پر پابندی لگائی گئی ہے وہ ان کے استاد تھے لیکن وہ آٹھ ماہ پہلے استعفیٰ دے کر یہاں سے جا چکے ہیں اوراب اس مدرسے میں صرف درس وتدریس کا کام ہوتا ہے اوراس کے علاوہ یہاں کچھ نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مدرسہ جو تیس سال پہلے قائم کیا گیا تھا کا تعلق اہل حدیث مسلک سے ہے اور یہ حکومت پاکستان کے پاس رجسٹرڈ ہے لیکن ان تیس سالوں کے دوران اس پر کوئی اعتراض تو نہیں آیا اب پتہ نہیں امریکہ نے یہ قدم کیوں اٹھایا ہے۔

محمد ابراہیم نے بتایا کہ اس مدرسے میں پانچ سے چھ سو طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کرنے آتی ہیں لیکن وہ دن کو ہی واپس چلی جاتی ہیں۔

گنج مدرسہ

جامعہ تعلیم القرآن والحدیث کے نام سے یہ مدرسہ پشاورکے مشہورگنج دروازے سے ہزار خوانی کی جانب جاتے ہوئے بالکل شروع میں پڑتا ہے جہاں سے آگے پھر علاقے کا مشہور قبرستان ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والے پاکستان کے اس پہلے مدرسے کے بارے میں بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں یہ مدرسہ مولانا محمد امین پشاوری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جن کا فکری رابطہ سلفی تنظیم جماعت الدعوۃ سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ دنوں پہلے یہ خبریں بھی سننے کو ملی تھیں کہ مولانا محمد امین پشاوری کے اثاثے بھی منجمد کیے گئے تھے۔

مدرسے میں واقع جامع مسجد کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں ہر جمعہ کو دور اور نزدیک سے اتنے لوگ مولانا امین کوسننے کے لیے آتے ہیں کہ مسجد صبح گیارہ بجے ہی بھر جاتی ہے۔

مولانا امین اللہ پشاوری کے انداز تخاطب کو پسند کرنے والے ایک مقامی شخص کا کہنا تھا کہ مولانا کا خطاب اس قدر متاثرکن ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے سالانہ سینکڑوں لوگ مختلف محاذوں پر’جہاد‘ کرنے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں