ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نواز سب سے آگے

Image caption حساس پولنگ سٹیشنوں پر فوجی تعینات کیے گئے ہیں

پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی 15 میں سے 13 نشستوں کے نتائج موصول ہو گئے ہیں، جن میں مسلم لیگ نواز پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے سب سے آگے ہے۔

اب تک موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر مصدقہ نتائج کے مطابق دوسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی ہے جس نے تین نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ تحریکِ انصاف کے حصے میں دو نشستیں آئی ہیں۔

واضع رہے کہ یہ نتائج پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن پر جاری کیے گئے نتائج کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے رات گئے بتایا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی ضمنی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا۔

جن 41 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی ہے ان میں سے 15 حلقے قومی اسمبلی جبکہ 26 مختلف صوبائی اسمبلیوں کے ہیں۔

آپ کی رائے: کیا حکومتیں اپنے وعدے وقت پر پورے کر پائیں گی؟

پنجاب میں ضمنی انتخابات سے عوامی رجحانات کا اندازہ

سندھ: پی پی پی اور ایم کیو ایم سرگرم

پاکستان تحریکِ انصاف کو ان ضمنی انتخابات میں اس لحاظ سے دھچکا لگا ہے کہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی دونوں نشستیں تحریک کے ہاتھ سے نکل گئی ہیں۔

11 مئی کے عام انتخابات میں حلقہ این اے 1 پر عمران خان نے اے این پی کے غلام احمد بلور کو شکست دی تھی، لیکن ضمنی انتخابات میں اے این پی کے رہنما نے بھاری کامیابی حاصل کر کے اپنی شکست کا بدلہ لے لیا ہے۔

اسی طرح میانوالی سے بھی عمران خان کی نشست پی ٹی آئی کے ہاتھ سے نکل گئی ہے اور وہاں مسلم لیگ نواز کے عبیداللہ شادی خیل نے ملک وحید خان کو ہرا کر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

الیکشن کمیشن نے خیبر پختون خوا کے دو حلقوں کے نو نو نتائج روک دیے ہیں۔ حلقہ این اے 5 نوشہرہ اور این اے 27 لکی مروت کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ وہاں خواتین کو ووٹنگ میں حصہ نہیں لینے دیا جا رہا۔

پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ان 18 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کروائی جائے۔

اسلام آباد کے حلقے این اے 48 پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز میں سخت مقابلہ متوقع تھا۔ اس حلقے میں تحریکِ انصاف کے امیدوار اسد عمر نے چوہدری اشرف گجر ایڈووکیٹ کو شکست دی۔ یہ نشست تحریکِ انصاف کے سینئیر رہنما جاوید ہاشمی نے خالی کی تھی۔

تجزیہ کاروں نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا ہے کہ اب تک موصول ہونے والے 13 نتائج میں سے تین میں خواتین نے کامیابی حاصل کی ہے۔

این اے 237 ٹھٹہ سے پیپلز پارٹی کی امیدوار شمس النسا میمن نے اپنے بیٹے صادق علی میمن کی خالی کی ہوئی نشست پر مسلم لیگ نواز کے ریاض شیرازی کو ہرا دیا۔ اسی طرح سانگھڑ سے پیپلزپارٹی ہی کی شازیہ مری نے کامیابی حاصل کی ہے۔

لاہور سے مسلم لیگ نواز کی امیدوار شازیہ مبشر نے تحریکِ انصاف کے منشا سندھو کے مقابلے پر کامیابی حاصل کی ہے۔

قومی اسمبلی

جمعرات کو ملک میں قومی اسمبلی کے 15حلقوں میں سے 13 حلقوں کے نتائج موصول ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ نواز نے پانچ، پیپلزپارٹی نے تین، تحریکِ انصاف نے دو، جبکہ اے این پی، ایم کیو ایم اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی نے ایک ایک سیٹ حاصل کی ہے۔

Image caption گیارہ مئی کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی

اسلام آباد کے حلقے این اے 48 پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز میں سخت مقابلہ متوقع تھا۔ اس حلقے میں تحریکِ انصاف کے امیدوار اسد عمر نے چوہدری اشرف گجر ایڈووکیٹ کو شکست دی۔ یہ نشست تحریکِ انصاف کے سینئیر رہنما جاوید ہاشمی نے خالی کی تھی۔

Image caption خیبر پختونخوا میں ضمنی الیکشن تحریکِ انصاف کی حکومت کی مقبولیت جانچنے کا پیمانہ سمجھے جا رہے ہیں

خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر ضمنی انتخاب ہونا تھا لیکن ٹانک میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 25 میں امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث انتخاب ملتوی کر دیا گیا ہے اور یوں اب صوبے میں اب قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں انتخاب ہو رہا ہے۔

پشاور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 1 سے عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور نے پی ٹی آئی کے گل بادشاہ خان کو سخت مقابلے بعد شکست دے دی۔

صوابی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 13 میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ نے تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

نوشہرہ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے پانچ سے تحریکِ انصاف نے اپنے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے داماد عمران خٹک کو ٹکٹ دیا ہے۔ تاہم وہاں کے نتائج روک دیے گئے ہیں۔

این اے 27 لکی مروت سے پی ٹی آئی کے امیراللہ مروت نے کامیابی حاصل کی ہے۔

صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کے چھ اور صوبائی اسمبلی کے 14 حلقوں میں انتخاب ہوا۔

سرگودھا کے حلقے این اے 68 میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے سردار شفقت حیات بلوچ نے کامیابی حاصل کی۔

لاہور کے این اے 129 کی نشست میاں شہباز شریف نے خالی کی تھی۔ وہاں سے مسلم لیگ نواز کی شازیہ مبشر نے کامیابی حاصل کی۔

میانوالی کے حلقے این اے 71 میانوالی سے مسلم لیگ نواز کے عبید اللہ خان شادی خیل نے عمران خان کی خالی کردہ نشست جیت لی۔

این اے 177 مظفر گڑھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نور ربانی کھر نے کامیابی حاصل کی۔

فیصل آباد کی نشست این اے 83 پر امیدوار کے انتقال کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوئی تھی۔

این اے 103 جلال پور بھٹیاں سے مسلم لیگ نواز کے شاہد حسین بھٹی فتح یاب ہوئے۔

سندھ میں قومی اسمبلی کے تین اور صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔

کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 254 میں متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار محمد علی راشد نے کامیابی حاصل کی۔

حلقہ این اے 235 سانگھڑ میں پپپلز پارٹی کی شازیہ مری جیت گئیں، ان کے مقابلے پر مسلم لیگ فنکشنل کے خدا بخش راجڑ تھے۔

حلقہ این اے 237 ٹھٹہ میں پیپلز پارٹی کی شمس النسا نے مسلم لیگ نواز کے ریاض شیرازی کو ہرا دیا۔

بلوچستان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 262 قلعہ عبداللہ میں پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے قہار خان جیت گئے ہیں۔

اس حلقے کے تمام پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا۔

صوبائی اسمبلی

جمعرات کو ہی ملک میں صوبائی اسمبلیوں کے 26 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر مصدقہ نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔

یہ تمام نتائج سرکاری ٹیلی وژن سے حاصل کر کے مرتب کیے گئے ہیں۔

خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آزاد امیدواروں نے دو، جبکہ جمعیت علمائے اسلام ف اور اے این پی نے ایک ایک نشت حاصل کی ہے۔

پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے پندرہ حلقوں میں انتخاب ہوا، جن میں مسلم لیگ نواز نے نو نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ دو پر اسے سبقت حاصل ہے۔ پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف نے دو دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

وزیرِاعلیٰ شہباز شریف کی خالی کردہ نشست پی پی 161 پر مسلم لیگ نواز کے امیدوار کو شکست ہوئی ہے اور وہاں پی ٹی آئی کے چودھری خالد محمود گجر جیت گئے ہیں۔

سندھ کی صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں میں انتخاب ہوئے۔اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سندھ سے ایم کیو ایم نے تین نشستیں حاصل کر لی ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی کے حصے میں ایک نشست آئی ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں اب تک آنے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ نواز نے دو نشستیں اپنے نام کر لی ہیں، جبکہ ایک نشست پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا ہے۔

اسی بارے میں