کراچی:ایک اور لاپتہ بلوچ کی مسخ شدہ لاش کی شناخت

Image caption ’شناخت بازوں اور ٹانگوں سے کی گئی ہے کیونکہ چہرے اور جسم تشدد کے باعث مسخ تھا‘

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے بدھ کو ملنے والی نامعلوم لاش کی شناخت بلوچ صحافی حاجی عبدالرازق کے طور پر کی گئی ہے۔

حاجی عبدالرزاق کی شناخت ان کی بہن سعیدہ سربازی نے کی جن کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی پر اس قدر تشدد کیا گیا تھا کہ انہیں لاش شناخت کرنے میں چوبیس گھنٹے لگ گئے۔

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن کے علاقے حب ڈیم روڈ سے بدھ کی صبح دو لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ اس بار بھی مقتولین کی جیب میں پرچی موجود تھی جن پر ان کے نام حاجی عبدالرزاق اور پٹھان ولد رحیم بخش بگٹی تحریر تھے۔

سعیدہ سربازی نے بی بی سی کو بتایا کہ رواں سال چوبیس مارچ کو ان کے بھائی کسی کام کے سلسلے میں چاکیواڑہ جارہے تھے کہ سفید کار میں سوار افراد انہیں اٹھاکر کر لے گئے جس کے بعد ان کا پتہ نہیں چلا۔

سعیدہ سربازی نے کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ انہوں نے بھائی کی شناخت کرلی ہے اور ’یہ شناخت بازوں اور ٹانگوں سے کی گئی ہے کیونکہ چہرہ اور جسم تشدد کے باعث مسخ تھا‘ اس لیے شناخت میں مشکل ہو رہی تھی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں سرجانی ٹاؤن سے سولہ لاشیں مل چکی ہیں۔

مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات پر آپ کی رائے

تاہم وائس فار مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین عبدالقدیر بلوچ کا کہنا رواں سال کراچی سے ملنے والے لاشوں کی تعداد چھبیس ہے اور یہ لوگ زیادہ تر مکران، تربت، پنجگور اور آواران سے حراست میں لیے گئے تھے۔

بلوچستان میں جاری ’ریاستی‘ کارروائیوں اور گمشدگیوں کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرہ ہوتے رہے ہیں جو ان بلوچ تنظیموں کے لیے بلوچستان کے شہروں میں کرنا دشوار ہوتا ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں میں زیادہ تر شرکت لیاری اور ملیر کے بلوچ نوجوانوں کی ہوتی ہے۔

عبدالقدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ کراچی کے بلوچوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے کراچی میں لاپتہ افراد کا لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا کیونکہ اب کراچی کا بلوچ بھی بلوچستان کی تحریک میں کافی سرگرم ہے۔

یاد رہے کہ منگل کے روز بھی دو بلوچ نوجوان کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ یہ لاشیں منگل کی صبح سرجانی ٹاؤن کے علاقے ناردرن بائی پاس پر ویرانے میں پڑی ہوئی ملی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کے گلے میں پھندے لگے ہوئے تھے اور جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔

پولیس کو لاشوں کے ساتھ پرچیاں بھی ملی ہیں جن پر ان کے نام محمد رمضان اور عبدالغفور بلوچ تحریر تھے۔ دونوں لاشوں کو عباسی شہید ہپستال منتقل کیا گیا جہاں سے ورثا خاموشی سے اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوگئے۔

عبدالقدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوانوں کا تعلق تربت کے قریبی علاقوں سے ہے۔ عبدالقدیر بلوچ کے بقول ان کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ بی ایس او آزاد کے سیکریٹری رضا جہانگیر کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

عبدالقدیر بلوچ کے مطابق دونوں نوجوان بلوچ نیشنل موومنٹ کے کارکن اور طالب علم تھے۔

اسی بارے میں