پاکستان نے337 بھارتی ماہی گیر رہا کر دیے

Image caption پاکستان کی جانب سے ماہی گیروں کی رہائی کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جو دونوں ممالک کے دومیان ایل او سی پر صورتحال کشیدہ ہے

پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت جمعہ کو 337 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کردیا ہے، ان ماہی گیروں کو پاکستان کی سمندری حدود میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

رہا ہونے والے ماہی گیروں میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں، جنھیں تحائف دیکر بھارت روانہ کیا گیا۔

یہ ماہی گیر کراچی کی لانڈھی جیل میں قید تھے جہاں سے انھیں کوچز میں سوار کر کے واہگہ بارڈر کے لیے روانہ کیا گیا۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پاکستان نے 338 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا لیگل ایڈ تنظیم کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے ایک شخص منوج کمار کی شناخت کی تصدیق نہیں کی جس کی وجہ سے ان کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی ہے۔

ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک کا کہنا ہے کہ بھارتی جیلوں میں اس وقت 200 سے زائد پاکستانی ماہی گیر قید ہیں جن میں سے 150 کے قریب حال میں گرفتار کیے گئے تھے۔

موجودہ حکومت سے پہلے نگران حکومت میں بھی 45 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کیا گیا تھا۔

اگست میں پندرہ پاکستانی ماہی گیروں کو رہا کیا گیا، یہ ماہی گیر کئی سالوں سے قید تھے۔

موجودہ وقت لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے اور دونوں ملکوں کے فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے جس سے دونوں ممالک میں امن اور دوستی کے لیے سرگرم رضاکار پریشان نظر آتے ہیں۔

ان رضا کاروں نے کھوکھراپار موناباؤ سرحد پر آزادی کا مشترکہ جشن بھی ملتوی کر دیا تھا۔

غریب ماہی گیروں کی رہائی کو ان رضاکاروں نے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں