بگٹی قتل کیس: منتقلی کی درخواست مسترد

Image caption سابق حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی پرویز مشرف کو کو ئٹہ لانے میں سنجیدہ نہیں ہے: سہیل راجپوت ایڈووکیٹ

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر مشتمل ایک رکنی بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اکبر بگٹی قتل کیس کی سماعت اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک رکنی بنچ کے سامنے بلوچستان کی نگراں حکومت اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے علیحدہ علیحدہ درخواستیں دی گئی تھیں کہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر نواب اکبر بگٹی قتل کیس کی سماعت اسلام آباد منتقل کر دی جائے۔

بلوچستان میں نئی حکومت نے نگراں حکومت کی جانب سے دی گئی درخواست سنیچر کو ہونے والی سماعت میں واپس لے لی اور کہا کہ وہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کی درخواست مسترد کر دی۔

کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی میں زیر سماعت اس اہم مقدمۂ قتل کے مرکزی ملزم سابق صدر پرویز مشرف ہیں جن کی اسلام آباد میں گرفتاری کے بعد اس عدالت نے متعدد بار انہیں کوئٹہ لاکر پیش کرنے کا حکم دیا لیکن پولیس کی جانب سے انہیں پیش نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سابق حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی پرویز مشرف کو کو ئٹہ لانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اگر یہ لوگ پرویز مشرف کو کوئٹہ میں عدالت میں پیش کرنے میں سنجیدہ ہوتے تو پھر بلوچستان ہائیکورٹ میں اس مقدمے کی اسلام آباد منتقلی کی درخواست نہ دیتے۔‘

اس مقدمے کے تین دیگر ملزمان سابق وزیرِاعظم شوکت عزیز، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی اور سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی صمد لاسی کی گرفتاری کے سلسلے میں بھی واضح احکامات کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

عدالت نے مذکورہ تینوں ملزمان کے بھی دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ اس مقدمے کی اگلی سماعت دس ستمبر کو ہے اور ایک مرتبہ پھر عدالت نے آخری سماعت پر یہ حکم جاری کیا تھا کہ پرویز مشرف کو آئندہ سماعت کے دوران عدالت میں پیش کیا جائے۔

اسی بارے میں