زیارت ریذیڈنسی کیس، چینل پر مقدمہ واپس

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے علاوہ دو بیورو چیفس کے خلاف کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج شدہ مقدمہ واپس لے لیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ مبینہ طور پر زیارت میں قائداعظم کی قیام گاہ کی تباہی سے متعلق ویڈیو چلانے پر درج کیا گیا تھا۔

مقدمہ واپس لینے کا اعلان وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کیا۔

ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس سلسلے میں عدالتی احکامات ہیں لیکن عدالتی فیصلے میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اے آر وائی کے خلاف تمام وارنٹس واپس لیتا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ جس فراخدلی کا مظاہرہ اس مخلوط حکومت نے کیا ہے اسی جذبے کے تحت میرا اور حکومت کا جو میڈیا ٹرائل رات بھر کیا گیا ہے اس کو زرا دیکھیں‘۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کروائیں گے کہ جب سپریم کورٹ کا حکم نہیں تھا تو مقدمہ کس کے کہنے پر درج کیا گیا۔

کوئٹہ میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس مقدمے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا نام استعمال کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

چحف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا لیکن سپریم کورٹ کا نام استعمال کر کے غلط تاثر دیا گیا۔

کوئٹہ میں چینل کی انتظامیہ کے مطابق بلوچستان حکومت کی جانب سے درج ہونے والا مقدمہ سٹی پولیس سٹیشن میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں یہ کہا گیا تھا کہ نجی ٹی وی نے 13 اگست کو اپنے ایک پروگرام میں قائد اعظم ریذیڈنسی کو تباہ کرنے سے متعلق جو کلپس چلائے ان سے عوام میں خوف وہراس پیدا ہوا اور ان کے جذبات بھی مجروح ہوئے۔

Image caption زیارت ریزیڈنسی کی تباہی سے قبل کی تصویر جو کہ پاکستان میں ایک قومی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے

مقدمے میں چینل کے جن دو بیورو چیفس کو نامزد کیا گیا ہے ان میں اسلام آباد اور کوئٹہ کے بیورو چیف شامل ہیں۔

یاد رہے کہ نجی ٹی وی چینل پر چلنے والے ان ویڈیو کلپس کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

پیر کو کوئٹہ میں مذکورہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چینل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پرسپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا۔

اس مقدمے کے خلاف بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاج بھی کیا۔

احتجاج کرنے والے صحافیوں نے نجی ٹی وی چینل کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے کے اندراج کو آزادیِ صحافت کے منافی قرار دیا۔

اسی بارے میں