جمہوریت کی نرسریاں اجاڑ

Image caption حالیہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے نوجوانوں کو متحرک کرنے کے لیے خاصی توانائیاں صرف کیں

پاکستان میں حالیہ انتخابی مہم کا ایک اہم پہلو نوجوان رہے اور کئی دہائیوں کے بعد کم و پیش تمام سیاسی جماعتیں ہی نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم دکھائی دیں۔

66 برس پہلے پاکستان کی تخلیق کے لیے نوجوانوں کا کردار تحریکِ پاکستان کا سنہری باب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے بعد کے ادوار میں نوجوان سیاسی طور پر کتنے فعال رہے اور ان کے سیاسی کردار میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں؟ کیا وہ تاریخ کے اہم مرحلوں پر کوئی کردار ادا کر پائے، کیا انھیں ملک کے سیاسی ڈھانچے اور فیصلہ سازی میں اہمیت دی گئی اور کیا وقت گزرنے کے ساتھ نوجوانوں کی سیاسی دلچسپی میں کمی آئی یا پھر انھیں سوچی سمجھی پالیسی کے تحت محدود کیا گیا؟

پاکستان جیسے ملک کے لیے جہاں 63 فیصد آبادی 25 برس سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔

حال ہی میں اسلام آباد میں موجود ایک تھنک ٹینک جناح انسٹی ٹیوٹ نےA political for De-politicised? Pakistan’s Youth and Politics کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آئندہ 20 برس کے دوران ملک میں کام کرنے کے قابل آبادی دوگنی ہوجانے کی توقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو روزگار کے مزید تین کروڑ 60 لاکھ مواقع پیدا کرنا ہوں گے اور نوجوانوں کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کے لیے اقدامات بھی کرنا ہوں گے اور اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو اس کی قیمت پاکستان کے جمہوری عمل کو ادا کرنا ہوگی۔

رپورٹ میں قیام پاکستان سے اب تک نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق اب سے کچھ عرصہ پہلے تک نوجوانوں کی سیاست میں دلچسپی کو تعلیمی اداروں میں موجود طلبہ یونینوں سے منسلک کیا گیا تھا۔ یعنی نوجوانوں کی بڑی تعداد جو تعلیمی اداروں تک رسائی نہیں رکھتی خاص طور پر دیہی علاقوں میں، انھیں کبھی بھی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع نہیں مل سکا۔

رپورٹ میں پاکستان میں طلبہ یونینوں کی سرگرمیوں کے سیاست پر اثرات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ 50 اور 60 کی دہائی کے دوران دائیں اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی طلبہ تنظیموں کی ایوب حکومت کے خلاف مزاحمت، 1970 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ کے بنگلہ دیش کی علیٰحدگی کی تحریک میں کردار اور ضیا دور میں جمعیت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے ملکی سیاست پر اثرات کا تذکرہ بھی موجود ہے۔

پاکستان میں طلبہ یونینوں پر پابندی کی ابتدا ایوب دور سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ مختلف ادوار میں مختلف تنظیمیں حاکم وقت کے عتاب کا شکار رہیں، تاہم سنہ 1984 میں ضیا الحق نے طلبہ یونینوں پر مکمل پابندی عائد کردی۔ سنہ 1988 میں جب پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تو یہ پابندی ہٹا دی گئی تاہم اس وقت تک مختلف یونیورسٹیوں میں طلبہ یونینوں کے دوران چپقلش سیاست سے آگے بڑھ کر تشدد کا رخ اختیار کرچکی تھی۔

پے در پے ہونے والی قتل و غارت اور جھڑپوں کے باعث کئی کیمپسوں میں تو نیم فوجی دستے تعینات کرنا پڑے اور پھر سنہ 1992 میں اسی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی۔ سنہ 2008 میں اس پابندی کو پھر ہٹانے کا اعلان ہوا لیکن اس وقت تک طلبہ یونینیں تتربتر ہوچکی تھیں کہ پھر جڑ نہ پکڑ سکیں۔

پاکستان کی یونیورسٹوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ونگ متحرک ہیں جن کا مقصد نوجوانوں کو سیاسی عمل میں شرکت کے لیے تیار کرنے سے زیادہ یونیورسٹیوں کے وسائل پر قبضہ برقرار رکھنا ہے۔

اتنے برس کی پابندی کے باوجود تعلیمی اداروں میں تشدد کے واقعات تو رپورٹ ہوتے رہے تاہم سیاست کی نرسریاں دم توڑ چکی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کے نوجوانوں کا سیاسی عمل اور اداروں سے اعتماد اٹھتا چلا گیا۔

پاکستان میں حالیہ عام انتخابات سے پہلے برٹش کونسل نے نوجوانوں کی سیاست میں دلچپسی جانچنے کے لیے ایک سروے کیا جس کے مطابق پاکستان میں 30 فیصد سے بھی کم نوجوان جمہوریت کے حق میں ہیں تاہم 60 فیصد نوجوانوں نے مئی گیارہ کو ووٹ ڈالنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

جناح انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں کوئی نئی تحقیق یا نتائج تو سامنے نہیں آسکا، تاہم اس کے ذریعے نوجوانوں کو مستقبل میں سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور سفارش کی گئی ہے کہ اس مقصد کے لیے قانون سازی اور سیاسی جماعتوں اور تعلیمی اداروں میں اصلاحات کی جائیں۔

اسی بارے میں