جنوبی وزیرستان میں حملے میں چار شدت پسند ہلاک

Image caption جنوبی وزیرستان شورش زدہ علاقہ ہے جو اکثر شدت پسندوں کا نشانہ بنتا رہتا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی کی تحصیل سراروغہ میں شدت پسندوں نے فوجی کیمپ پر حملہ کیا ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے حکام کے مطابق ایک فوجی اہلکار اور ایک خود کش حملہ آور سمیت چار شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کے حکام نے بتایا ہے کہ رات گئے چار شدت پسندوں نے تحصیل سراروغہ میں فوجی کیمپ پر حملہ کیا ہے لیکن کیمپ میں موجود اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تین شدت پسندوں کو ہلاک کردیا جبکہ ایک خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

حکام کے مطابق اس دھماکے میں ایک فوجی ہلاک ہوا ہے۔ تین شدت پسندوں کی لاشیں سکیورٹی فورسز نے تحویل میں لے لی ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات تین بجے کے لگ بھگ فائرنگ اور دھماکے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں نے اس کارروائی میں چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا ہے جس میں دو فوجی اور چار شدت پسند ہلاک ہو گئے، لیکن سرکاری سطح پر دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

سراروغہ لدھا سب ڈویژن کی تحصیل ہے اور یہ بنیادی طور پر محسود قبائل کا اہم علاقہ ہے۔ جنوبی وزیرستان میں 2009 میں فوجی آپریشن راہ نجات کے بعد 2012 میں سراروغہ وہ پہلا علاقہ تھا جسے شدت پسندوں سے صاف قرار دے دیا گیا تھا۔

اس علاقے میں فوجی حکام نے ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق فوجی آپریشن سے پہلے بھی سراروغہ دیگر علاقوں کی نسبت بنیادی سہولتوں سے آراستہ تھا۔ یہاں پینے کی پانی کی سکیمیں، صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات دستیاب ہیں۔

یاد رہے چند روز پہلے جنوبی وزیرستان کے علاقے برمل میں چند روز پہلے ایک دھماکے میں کمانڈر غلام جان چار ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں