مطمئن زرداری اور سفید دھوتی

Image caption عشائیے میں پیپلز پارٹی کے چند اعلیٰ رہنما موجود تھے

’میں ایک مطمئن شخص کی حیثیت سے ملک کی 66 سالہ تاریخ میں پہلا صدر ہوں جو پرامن طریقے سے اپنی مدت مکمل کر کے جار رہا ہے۔ مجھے (صدارت چھوڑتے ہوئے) کوئی افسوس نہیں ہے۔‘

یہ الفاظ ہیں ایک ایسے صدر مملکت کے جو ذاتی طور پر تو یقیناً مطمئن ترین شخص کی حیثیت سے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کی پانچ سالہ مدت مکمل کر کے جا رہے ہیں، لیکن بطور صدر ان کی کارکردگی کے اعتبار سے پانچ سال یقیناً ملے جلے تھے۔ بعض تاریخی فیصلے ہوئے لیکن بعض اوقات وہ زیادہ ’بہادری‘ شاید نہیں دکھا سکے۔ اس کا احساس انہیں بھی ہے۔

سوموار کی رات اسلام آباد کے صحافیوں اور پیپلز پارٹی کی سابق کابینہ کے چند اراکین کے اعزاز میں الوداعی عشائیے کے موقعے پر انہوں نے مختصر خطاب میں اپنی پانچ سالہ کارکردگی کے چیدہ چیدہ نکات کا بڑی مہارت سے ذکر کر دیا:

’ہم کئی مسائل کے حل میں وہ نتائج حاصل نہیں کرسکے جو کرنے چاہیے تھے۔ ہمیں اس کا اعتراف ہے۔ میں نے یہ عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد کہا تھا کہ ہم شہ سرخیاں بنانے نہیں بلکہ تاریخ بنانے آئے ہیں اور یہ میں نے حاصل کر لیا ہے۔‘

پانچ سالوں کے دوران تین چار مرتبہ صدر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ چند برس قبل ظہرانے پر ون ٹو ون ملاقات اس اعتبار سے بہترین رہی کہ انہیں قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ اس وقت بھی جو اہداف انہوں نے بتائے تھے ان میں سرِ فہرست حکومت اور اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنا تھا۔ آج وہ اس میں سرخرو ہوئے اور اسی وجہ سے شاید کافی ’ریلیکسڈ،‘ تر وتازہ اور تناؤ سے آزاد دکھائی دیے۔

انہوں نے یہ بھی مانا کہ میڈیا نے ان پر بحیثیت عوامی رہنما جتنی نکتہ چینی کی یہ اس کا حق تھا اور اب نواز شریف ان سے نمٹنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

بعض باتوں کا سہرا اپنے سر باندھنے میں انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ چین کے ساتھ آج تعلقات کی گرمجوشی جس سطح پر ہے یہ ان کا کارنامہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی وزیر اعظم سے نواز شریف کو ملا کر انہوں نے ان تعلقات کو مزید آگے لے جانے کی ایک بنیاد ڈال دی ہے۔ اس بابت انہوں نے گوادر کو چین کے حوالے کرنے کا بھی فیصلہ یاد دلایا۔

جب انہوں نے کہا کہ میں پانچ سال بعد جا رہا ہوں تو دل میں آیا کہ ابھی چند روز باقی ہیں اور پاکستان میں خصوصاً اسلام آباد میں بجلی کے کڑکنے اور طوفانی بارش کی آمد میں چند منٹ لگتے ہیں، دن یا مہینے نہیں۔ ایوان صدر کے ہال میں ایک دیوار پر لگی سابق صدور کی دلکش تصاویر میں آصف زرداری کی بظاہر پینٹنگ سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے۔ زرداری کی پینٹنگ پر باقی صدور کی تصاویر سے ایک فرق ہے اور وہ ہے کہ اس پر تاریخ آمد اور رخصتی کی پیتل کی چھوٹی سے لیکن انتہائی اہم پٹی ابھی نہیں لگائی گئی ہے۔

قریب ہی ایک دوسری دیوار یوں لگ رہی تھی جیسے بھٹو اور زرداری خاندان کا ’فیملی کارنر‘ ہو، لیکن میرے ایک ساتھی اس سے متفق نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پھر درمیان میں جناح صاحب کی تصویر کیا کر رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے علاوہ وہاں بلاول بھٹو زرداری کی بھی چمکتی ہوئی تصویر نے حیرت میں ڈال دیا کہ وہ کس حیثیت میں یہ جگہ حاصل کر پائے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سہی لیکن کیا ان کی تصاویر وہاں آویزاں کی جاسکتی ہے۔

وہیں ایوان صدر کے بڑے بڑے ہالوں میں سوٹ بوٹ پہنے مہمانوں میں ایک سفید دھوتی میں ملبوس شخص کو گھومتے پھرتے دیکھا۔ وہ شخص صحافیوں کو بتا رہے تھے کہ انہوں نے صدر کو اپنے جادو کے زور پر مزید وقت روکنے کی پیشکش کی تھی لیکن صدر نے اسے ٹھکرا دیا۔

بتایا گیا کہ یہ صدر کے روحانی پیشوا پیر اعجاز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر اب اس محل میں مزید نہیں رہنا چاہتے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صدر کے دشمنوں نے انہیں ہٹانے کی بہت کوششیں کیں لیکن وہ سب انہوں نے ناکام بنا دیں۔ جس شخص کا خود کہنا تھا کہ انہیں دن میں محض دو گھنٹے نیند آتی ہے تو اچھا ہوا کہ صدر نے ان کے مشوروں پر کان نہیں دھرے۔

اس موقعے پر سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور وزیر داخلہ رحمان ملک بھی موجود تھے۔ راجہ صاحب تو میڈیا سے ظاہر ہے قدرے دور ہی رہے، لیکن رحمان ملک اسی طرح ہشاش بشاش انداز میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے رہے۔ پوچھا صدر کا کیا ارادہ ہے، صدارتی استثنیٰ کے خاتمے کے بعد کیا وہ ملک میں ہی رہیں گے یا اس سے قبل چلے جائیں گے، تو رحمان ملک نے کہا، ’ارے ہارون بھائی جیلیں اور مقدمات ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم ملک میں ہی رہیں گے اور ان چیزوں کا مقابلہ کریں گے۔‘

واپسی پر لفٹ میں پیپلز پارٹی کی چند خواتین اراکین اسمبلی بھی ساتھ تھیں۔ ان سے از راہِ شرارت پوچھا کہ اب تو ان کا ایوان صدر آنا کم ہو جائے گا۔ تو مہرین راجہ نے قدرے چڑ کر کہا، ’کم کیا، اب تو آنا ہی نہیں ہوگا۔‘

اس کا انحصار تو شاید اب بلاول بھٹو زرداری پر ہے۔ کیا وہ اپنے آپ کو ’بھٹو‘ خاندان کا چشم و چراغ ہونے کے علاوہ ایک عوامی رہنما کے طور پر ثابت کر پاتے ہیں یا نہیں۔ چند ویڈیو پیغامات کے ذریع گیارہ مئی کے عام انتخابات لڑنے کا سبق انہیں مل چکا ہے۔

پیپلز پارٹی کو اب ایوان صدر دوبارہ آنے میں کتنا وقت لگتا ہے، یہ اس ملک کی سیاست سے زرخیز میدانوں کی ایک اور خاصی دلچسپ کہانی ہوگی۔

اسی بارے میں