’فوج کی تعیناتی کا فیصلہ درست نہیں ہو گا‘

Image caption کراچی آپریشن کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دینا ہو گا، وزیرِ داخلہ

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کراچی میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ درست نہیں ہو گا۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں بڑے نہیں بلکہ ’ہدف پر مبنی آپریشن‘ کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کراچی کے حالات میں بہتری کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر کراچی کے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

’اتفاقِ رائے اور یکسوئی سے آپریشن ہو تو بہتری یقینی ہے۔ کراچی آپریشن کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دینا ہو گا۔‘

انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر کراچی کے حالات یونہی رہے تو سنگین صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں آپریشن کی نہیں ٹارگٹ آپریشن کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی بدا منی کیس میں وفاق کا موقف جاننے کے لیے اٹارنی جنرل کو جعمرات کو عدالت میں طلب کیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم لارجر بینچ نے بدھ کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹں نے کہا کہ کراچی بدامنی کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

عدالت نے کراچی بدامنی کے حوالے سے ڈی جی رینجرز سندھ میجر رضوان کو طلب کیا۔

چیف جسٹس نے ڈی جی رینجرز سے سوال کیا کہ دو سال گذرنے کے باوجود سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کے حوالے سے جو فیصلہ دیا تھا اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ وہ کون سی طاقت ہے جو پولیس اور رینجرز کو قانون پر عملداری سے روکتی ہے؟

ڈی جی رینجرز نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں امن و امان کی صورت حال اور بدامنی کے ذمہ دار سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز ہیں۔

انھوں نے کہا کہ رمضان میں سیاسی جماعتوں کو فطرہ اور زکوٰۃ مل رہا تھی تو وہ اس وقت خاموش تھیں لیکن آج وہی جماعتیں آوازیں اٹھا رہی ہیں۔

ڈی جی رینجرز نے عدالت کو بتایا کہ رینجرز نے بڑے مجرموں، سیاسی جماعتوں کے جرائم میں ملوث مسلح کارکنوں کو گرفتار کیا لیکن مجرم ناقص تفتیش کے باعث آزاد ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش پولیس کی ذمہ داری ہے جب تک عدالتیں سزا نہیں دیں گی امن کیسے قائم ہوسکتا ہے؟۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار احمد ولی مجیب کے مطابق عدالت نے پولیس اور رینجرز کو شہر میں امن وامان کے قیام کے لیے یکساں ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ رینجرز نے شہر میں امن وامان کو مذاق بنا رکھا ہے۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا ’جب تھانے بکتے ہوں اور ایس ایچ او پیسے لیکر تعینات کیے جائیں تو صورت حال ایسی ہی ہوگی جیسی اس وقت شہر کی ہو رہی ہے ۔حکومتی اداروں کو سب پتہ ہے کہ کون بھتہ خوری میں ملوث ہے اور کن کن علاقوں سے کتنا بھتہ وصول ہوتا ہے، کس علاقے کے بھتہ خوروں کا تعلق کس سے تعلق ہے اور ان کا لیڈر کون ہے آپ سب جانتے ہیں لیکن بتاتے نہیں‘۔

چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سندھ کو مخاطب کر کے کہا کہ چاکیواڑہ ،کورنگی، ملیر یا کسی اور علاقے میں قتل ہو تو ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوتی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ تاجروں کو بلوا کر جرائم پیشہ عناصر بینک لے جاتے ہیں اور رقم وصول کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کراچی بد امنی کیس کی مذید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں