جمہوریت کے لیے تڑپنے والے سواتی

وکیل سواتی
Image caption وکیل سواتی کو جنرل ضیا الحق کے دور میں سوا سال قید کی سزا سنائی گئی

وکیل احمد سواتی اس شعر کی زندہ تشریح ہیں جس میں شاعر نے کہا تھا کہ منزلیں ان ہی کو ملیں جو شریک سفر نہ تھے۔

تحریک بحالی جمہوریت کے یہ شیدائی جب سوا سال کی قید کے بعد رہا ہوئے تو ان کے بچے گندگی کے ڈھیر سے ٹافی تلاش کرتے ملے تھے۔

سنیے: وکیل سواتی کا آڈیو انٹرویو

ایم آر ڈی پر خصوصی ضمیمہ

وکیل سواتی نے ستائیس اگست انیس سو تراسی کو پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار کے قریب رضاکارانہ گرفتاری دی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ جلوس کی شکل میں مزار قائد پہنچے تو پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور انہیں ہر صورت میں اپنے ٹارگٹ پر بھی پہنچنا تھا۔

’دوستوں سے مشورہ کر کے میں ایک طرف کھڑا ہوگیا، جیسے ہی موقعہ ملا تو پھولوں کے ہار گلے میں ڈال کر نعرے لگانا شروع کر دیے کہ ’مارشل لا ختم کرو، جمہوریت بحال کرو، جنرل ضیا مردہ باد، ایم آر ڈی زندہ باد‘، جس کے بعد پولیس نے گرفتار کر لیا اور بے دردی کے ساتھ گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا۔

وکیل سواتی کے مطابق انہیں تھانے لے جا کر پوچھا گیا کہ گرفتاری کیوں دی اور کس کے کہنے پر دی۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کا اعلان تھا کہ اس ملک میں جمہوریت بحال کرنی ہے، عوام کو جنرل ضیاالحق کے مارشل لا سے نجات دلانا ہے۔ان کا تعلق پاکستان نیشنل پارٹی سے ہے اور میر غوث بخش بزنجو کے حکم پر یہ گرفتاری پیش کی ہے۔

سواتی کو کراچی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، جہاں ان کی دوسری جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماؤں سے ملاقات ہوئی، ایسی ایک ملاقات نے انہیں کوڑوں کی سزا سے بچا لیا۔

’جیل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک وکیل رہنما نے بتایا کہ اگر کسی کی عمر پینتالیس سال سے زیادہ ہو تو اسے کوڑے نہیں لگائے جا سکتے۔ میں نے یہ بات پکڑ لی اور جب ٹرائل کورٹ میں پیش کیا گیا اور میجر نے عمر معلوم کی تو میں نے سینتالس سال بتائی، اس نے کہا کہ آپ تو پینتیس یا چھتیس سال کے لگتے ہو۔‘

وکیل خان سواتی کے مطابق میجر نے شناختی کارڈ کا معلوم کیا تو انہوں نے میجر کو بتایا کہ وہ پہاڑی لوگ ہیں، جب سعودی عرب یا دبئی مزدوری کے لیے جاتے ہیں تب ہی شناختی کارڈ بنواتے ہیں، فی الحال ان کا جانے کا کوئی ارادہ نہیں اس لیے شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔

میجر کے یہ پوچھنے پر کہ وہ کام کیا کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ گلیوں میں آلو اور پیاز بیچتے ہیں۔ میجر سوال پوچھتا رہا لیکن سواتی نے آخر تک اپنی عمر نہیں بتائی۔ آخر میں انہیں سوا سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔

وکیل سواتی سزا پوری ہونے کے بعد جب رہا ہوئے تو اس امید سے سینٹرل جیل کراچی کے باہر قدم رکھے کہ ان کا استقبال کرنے کے لیے ساتھی موجود ہوں گے، لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔

’میرے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک کارکن بھی تھا۔ ہم پیدل چلتے رہے اور یوں تین ہٹی تک پہنچ گئے لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ جس کے بعد مایوس ہوکر رکشے میں سوار ہوگئے۔‘

وکیل سواتی ابھی ساتھیوں کی بے رخی کے رنج میں ہی مبتلا تھے کہ ایک دوسرے واقعے نے انہیں جنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ بتاتے ہیں ’میں ساتھی کے ساتھ رکشے میں اپنے گھر کی طرف میٹرو ول جا رہا تھا کہ سیمنز چورنگی کے قریب کچرے کے ڈھیر پر ایک بچے کو کوئی چیز تلاش کرتے ہوئے دیکھا‘۔

’میں نے اپنے ساتھی کو کہا کہ یہ میرا بیٹا ہوگا۔ اس نے کہا کہ تمہارا بیٹا یہاں کیسے پہنچ گیا، ہم نے رکشہ روکا اور وہاں جا کر دیکھا تو وہ واقعی میرا بڑا بیٹا تھا۔ میں نے اس کو ہاتھوں میں لے کر چوما اور گود میں لے کر روتا ہوا گھر تک گیا۔ ہم لوگوں کے لیے جدوجہد کرتے رہے لیکن ہمارے بچوں کا یہ حال ہوگیا ہے۔‘

وکیل سواتی کے مطابق ان دنوں میں ایم آر ڈی کی خفیہ میٹنگز ہوتی تھیں اور دوستوں کے ذریعے یا ٹیلیفون پر پیغام ملتا تھا کہ فلاں کے گھر پر میٹنگ ہے۔ ایک ایسی ہی میٹنگ میں ہماری جماعت کی جانب سے گرفتاریاں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

’مجھے یہ اندازہ تھا کہ نوکری چلی جائے گی، بچے پریشان ہوں گے لیکن میرے لیے یہ غیرت کا مسئلہ بھی بن گیا تھا کہ کہیں کوئی یہ نہ سوچے کے میں گرفتاری سے ڈر گیا۔‘

ملک میں جمہوریت کے لیے تڑپنے اور جدوجہد کرنے والا اب کراچی بدل گیا ہے۔ وکیل سواتی اب عوامی نیشنل پارٹی سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ایک دوسرے کے لیے عزت، احترام اور محبت تھی اب صرف نفرت ہے۔

نوے کی دہائی میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے بھائی اور بھتیجے کو جب ہلاک کیا گیا اور لاشیں نائن زیرو پر پڑی ہوئی تھیں تو ان کے رہنما اجل خٹک نے انہیں ٹیلیفون کیا اور تدفین میں مدد کرنے کی ہدایت کی۔

’ہم عزیز آباد پہنچے تو سارے راستے بند تھے جس کے بعد ہم ملیر ندی کے اندر اترے اور گلیوں سے ہوتے ہوئے نائن زیرو پہنچے اور لاشوں کی تدفین میں مدد کی۔ اس وقت بی بی سی ریڈیو سے جو نعرے نشر ہوئے تھے کہ ’ظالموں جواب دو خون کا حساب دو‘ وہ میری آواز تھی‘۔

میدان عمل میں موجود یہ سیاسی کارکن بھی دیگر کئی کارکنوں کی طرح موجودہ نظام سے بدظن نظر آتے ہیں۔ وکیل سواتی کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت اور ایوان میں وہ چہرے نظر نہیں آتے جو ان کے ساتھ جدوجہد میں شریک تھے، اب سیاست میں پیسہ آگیا ہے اور ان جیسے ورکر تو بس وہاں ہی رہے جاتے ہیں جہاں تھے۔

اسی بارے میں