غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ

Image caption گزشتہ سال صوبہ سندھ میں 391 افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمع کروائے گئے اعداد وشمار کے مطابق غیرت کے نام پر صوبہ سندھ میں سنہ 2013 کے پہلے سات ماہ کے دوران 250 سے زائد افراد کو قتل کیا گیا جس میں سے اکثریت خواتین کی ہے۔

وزارت قانون کے انسانی حقوق سے متعلق سیل کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کروائے گئے اعداد وشمار کے مطابق کے مطابق اس عرصے کے دوران گھریلو خواتین پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

حقوق انسانی سے متعلق سیل کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔

اس سے پہلے سنہ 2012 میں صوبہ سندھ میں 391 افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا جس میں 200 سے زائد خواتین شامل ہیں جبکہ سنہ 2011 میں 368 افراد کو کاروکاری یعنی غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارت قانون کے انسانی حقوق سے متعلق سیل کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کروائے گئے اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2013 کے پہلے سات ماہ اور 20 دنوں کے دوران صوبہ پنجاب میں 22 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا جبکہ سنہ 2012 میں 71 افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کے واقعات مختلف تھانوں میں درج کیے گئے۔

سنہ 2011 میں آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایسے واقعات کی تعداد 365 سے زائد تھی

رواں سال کے پہلے 7 ماہ اور 20 روز کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا میں 28 افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا جبکہ گزشتہ سال 15 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔

غیرت کے نام پر قتل ہونے والے سب سے کم واقعات صوبہ بلوچستان میں ہوئے جن کی تعداد 13 ہے جبکہ گزشتہ برس 37 افراد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے۔

گھریلو خواتین پر تشدد کے واقعات میں صوبہ خیبر پختونخوا میں رپورٹ کیے گئے جن کی تعداد 187 ہے اور یہ واقعات رواں سال میں درج کیے گئے ہیں جبکہ اس صوبے میں خواتین پر تشدد کے واقعات کا الگ سے ذکر کیا گیا ہے جس کی تعداد 179 ہے۔

سنہ 2012 میں خواتین پر تشدد کے 55 واقعات رپورٹ کیے گئے تھے۔

رواں سال صوبہ خیبر پختونخوا میں بچوں پر جنسی اور جسمانی تشدد کے 179 واقعات ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ برس صوبے میں ایسے واقعات کی تعداد 39 تھی۔

صوبہ پنجاب میں خواتین پر تشدد کے7 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ برس ایسے واقعات کے تعداد 182 تھی۔ بچوں پر جنسی تشدد کا کوئی بھی واقعہ رواں سال صوبہ پنجاب میں درج نہیں کیا گیا جبکہ گزشتہ برس ایسے واقعات کی تعداد 86 تھی۔

صوبہ سندھ میں رواں سال کے دوران خواتین پر تشدد کے76 جبکہ بلوچستان پر ایسے واقعات کی تعداد 5 ہے۔ اس عرصے کے دوران سندھ میں بچوں پر جنسی اور جسمانی تشدد کے 31 اور بلوچستان میں4 مقدمات درج کیے گئے تھے۔

رواں سال کے دوران زنا کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ سندھ میں درج کیے گئے ہیں جن کی تعداد 42 ہے جبکہ اس عرصے کے دوران صوبہ پنجاب میں زنا کے 36 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختون خوا میں گزشتہ تین سال کے دوران زنا کا ایک مقدمہ بھی درج نہیں ہوا جبکہ رواں سال کے دوران بلوچستان میں بھی زنا کا کوئی مقدمہ کسی بھی تھانے میں درج نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں