طالبان سے مذاکرات کا آغاز، ’فائدہ ہونا شروع ہوگیا‘

Image caption یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مسلم لیگ (نواز) کی حکومت نے طالبان سے رابطوں کی تصدیق کی ہے

پاکستان کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت اور پاکستانی طالبان کے درمیان مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان سے پہلے ہی فائدہ ہونا شروع ہوگیا ہے‘ جبکہ طالبان نے بھی ان ابتدائی رابطوں کی تصدیق کی ہے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس بابت بہت سا ’ہوم ورک‘ پہلے ہی کر لیا تھا۔ تاہم اہلکار نے اس سے زیادہ تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے کہ مذاکرات سے کس قسم کا فائدہ ہونا شروع ہوا ہے۔

’مذاکرات کامیاب ہونے کا زیادہ امکان نہیں‘

ڈی آئی خان جیل پر حملہ، طالبان 243 قیدی چھڑا لے گئے

پھانسی کی سزا پر طالبان کی دھمکی

’ملالہ پاکستان آئی تو پھر نشانہ بنائیں گے‘

’جماعتیں جلد بازی کر رہی ہیں‘: سنیے

’امریکہ میں منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے‘: سنیے

ان کا کہنا تھا کہ ایک امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے دوسرے اعلیٰ رہنما مولوی ولی الرحمان کی ہلاکت سے مذاکراتی عمل کو جو نقصان پہنچا تھا اس کا منفی اثر اب ذائل کر دیا گیا ہے۔ ’اس کے بعد کافی تگ و دو کے بعد مذاکرات رابطے دوبارہ بحال کر دیے گئے ہیں۔‘

ایک سرکردہ طالبان اہلکار نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ابتدائی مذاکرات کئی مسائل پر ہوئے جن میں سے ایک پاکستان میں فرقہ ورانہ حملوں کو روکنا، اور القاعدہ اور لشکر جھنگوی جیسی تنظیموں سے تعلقات منقطع کرنا شامل تھا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان مخالف گروہوں پر دباؤ ہے کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ امن معاہدہ کرکے آئندہ برس افغانستان میں نیٹو افواج کے بعد کے لیے تیار کرنا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مسلم لیگ (نواز) کی حکومت نے طالبان سے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔

سرکاری اہلکار سے جب دریافت کیا گیا کہ ماضی کے مذاکرات سے یہ بات چیت کس طرح مختلف ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’آپ خود دیکھ لیں گے‘۔

مبصرین کے خیال میں ’فائدہ ہونے‘ سے بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ حکومت طالبان کو کسی حد تک کارروائیاں روکنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ طالبان کا کوئٹہ کی پولیس لائن میں نمازِ جنازہ میں خودکش حملہ ایسا بڑا آخری حملہ تھا جس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

لیکن ابھی یہ رابطے لگتا ہے ابتدائی مرحلے میں ہیں کیونکہ حکومت انسداد دہشت گردی کی جامع قومی پالیسی بھی تیار کر رہی ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی پر تقریباً تمام بڑی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے اور اسے حتمی شکل دے کر آئندہ چند ہفتوں میں اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے مذاکرات ہی ان کی پہلی آپشن ہوگی۔

اسلام آباد میں مغربی سفارتی حلقے کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف اور فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اس بات پر متفق ہیں کہ شدت پسند اگر پاکستانی ریاست و آئین کی بالادستی اور جنگ بندی پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو بات چیت ہوسکتی ہے۔ ایک سفارت کار کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ سرخ لکیر ہے جس کی خلاف ورزی دونوں کو قابل قبول نہیں‘۔

طالبان کو مذاکرات کی پیشکش سے پہلے ہی تحریک طالبان میں درآڑیں ڈال چکی ہے۔ پنجابی طالبان کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ نے بائیس اگست کو نواز شریف کی پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا۔ لیکن تحریک کی مرکزی قیادت اس سے خوش نہیں تھی۔ اس کا خیال ہے کہ کسی خیرمقدم سے قبل انہیں پاکستانی حکومت کے اقدامات پر محتاظ انداز میں نظر رکھنی ہوگی۔

عصمت اللہ معاویہ کی جنود حفصہ تحریک طالبان کی واحد اتحادی نہیں جس نے حکومت کی جانب نرم رویہ دکھایا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر، شمالی وزیرستان میں گل بہادر اور حقانی نیٹ ورک ایسے گروہ ہیں جو پاکستان سے متعلق پہلے ہی تحریک سے قدرے مختلف پالیسی رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ حکومت کے پاس دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک سے زائد راستے موجود ہیں ’مگر دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس میں مزید معصوم انسانی جانیں ضائع نہ ہوں‘۔

شدت پسندی کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’میں ہر پاکستانی کی طرح آگ اور خون کے اس کھیل کا جلد سے جلد خاتمہ چاہتا ہوں، چاہے یہ خاتمہ افہام و تفہیم کی میز پر بیٹھ کر ہو یا پھر بھرپور ریاستی قوت کے استعمال سے ہو، اور پاکستان کے تمام ادارے کسی تقسیم اور تفریق کے بغیر اس قومی مقصد پر یکسو ہیں‘۔

دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے بھی جمعرات کو وزیر اعظم سے ملاقات میں طالبان سے مذاکرات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اسی بارے میں