سوات میں بیس سال بعد گالف ٹورنامنٹ

Image caption سوات کے علاقے کبل میں جمعرات کو شروع ہونے والا گالف ٹورنامنٹ 31 اگست تک جاری رہے گا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں 20 سال بعد سہ روزہ گالف ٹورنامنٹ شروع ہو گیا ہے۔

بیس سال بعد فرسٹ سوات اوپن گالف چمپئین شپ کا باقاعدہ اغاز پاک فوج کے بریگیڈئر اعجاز نے سٹروک لگا کر کیا۔

منتظمین کے مطابق اس چمپئین شپ میں ملک بھر سے دوسو سے ذائد کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جن میں 54پروفیشنلز، 27 سینیئر پروفیشنلز اور 45 ایمچرز سمیت دیگر کھلاڑی بھی حصہ لے رہے ہیں۔

ٹورنامنٹ کے پہلے روز سینئیر گالفر پاکستان نیوی کے امجد یوسف کو 8 سٹروک کے ساتھ برتری حاصل رہی جو 64 سکور کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے جبکہ نیشنل گالفر امداد حسین 65 سکور کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ طالب حسین ، محمد نذیر اور اشفاق احمد 68 سکور کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

ملکی سطح پر کھیلے جانے والا یہ ٹورنامنٹ 31 اگست تک جاری رہے گا۔ ٹورنامنٹ میں شریک ہر کھلاڑی جیت کے لیے پر عزم دکھائی دے رہا ہے۔

کھلاڑیوں نے میڈیا کو بتایا کہ سوات گالف کلب کھیل کے لیے نہایت موزوں ہے اور یہاں کی خوبصورتی اور بہترین موسم اس کھیل کے لیے مناسب ہے۔

طالبان کے سابقہ ہیڈ کوارٹر تحصیل کبل میں واقعے سیڈار گالف کلب کو 1964 میں والیِ سوات کے جانشین میاں گل اورنگزیب نے تعمیر کرایا تھا اور اس پر باقاعدگی سےگالف کے مقابلے منعقد کروائے جاتے تھے۔

یہ گالف کورس سابق فوجی صدر ضیا الحق کے پسندیدہ مقامات میں شامل تھا اور وہ یہاں گالف کھیلنے آتے تھے۔

سوات میں جب شدت پسندی نے سر اٹھایا اور طالبان نے اپنے عقائد کے مطابق شریعت نافد کرنے کی کوشش کی تو اس دوران جہاں انہوں نے دیگر سرکاری املاک اور تعلیمی ادراروں کو تباہ کیا، وہیں اس گالف کورس کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

تاہم پاکستانی فوج نے اس گالف کورس کو دوبارہ بحال کیا ہے اور اب پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی اشتراک سے اس پر پہلا تین روزہ فرسٹ سوات اوپن گالف ٹورنامنٹ 2013 جمعرات سے شروع ہوا جو 31 اگست تک جاری رہے گا۔

خیبر پختونخوا گالف ایسوسی ایشن کے سیکریٹری کرنل ریٹائرڈ شہادت نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں 38 جب کہ خیبر پختونخواہ میں نو گالف کلب ہیں۔

ان کے مطابق سوات کے علاقے کبل میں واقع 18 ہولز پر مشتمل گالف کورس 122 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا شمار پاکستان کے بڑا گالف کورسز میں ہوتا ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا فاصلہ لمبا ہے جن سے کھلاڑیوں کے سکور اچھے آئیں گے۔

کبل کے علاقے بانڈی کے رہائشی صلاح الدین نے بتایا کہ وہ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد پر بہت خوش ہیں کیونکہ کشیدہ حالات کے دوران یہ گالف کورس طالبان کے زیرِ قبضہ رہا اور طالبان نے فوج سے لڑنے کے لیے اس میں خندقیں کھود رکھی تھی اور طالبان کی بڑی تعداد اس گراونڈ کو مرکز کے طور پر استعمال کرتی تھی۔

اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے ملایشیا سے آنے والے ضلع بونیر کے رہائشی اسد علی نے بتایا کہ آنے سے پہلے ان کے ذہن میں سوات کے بارے میں خاصے خدشات تھے لیکن یہاں کے امن کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی جیت کے لیے پرامید ہیں۔

منتظمین کے مظابق اس ٹورنامنٹ کا انعقاد ہر سال کیا جائے گا جس کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ سوات پر امن علاقہ ہے اور اب یہاں کوئی خطرہ نہیں۔

اسی بارے میں