خروٹ آباد کیس کا مرکزی ملزم فائرنگ میں ہلاک

پاکستان کے شہر کوئٹہ میں مئی2011ء کو خروٹ آباد کے علاقے میں تین خواتین سمیت پانچ غیر ملکی باشندوں کے قتل کے مرکزی ملزم سابق اے ایس آئی رضا خان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

کوئٹہ پولیس کے مطابق رضا خان کو نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کی شب کوئٹہ کے علاقے کلی مبارک میں ان کے گھر کے باہر حملہ کر کے ہلاک کیا۔

خروٹ آباد سانحہ سے متعلق تفصیلات اس صفحے پر

یاد رہے کہ کوئٹہ کے علاقے خروٹ آباد میں ہلاک ہونے والے پانچوں غیر ملکیوں کا تعلق روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تھا جو کہ مسلمان تھے۔ ہلاک ہونے والی ایک خاتون کا تعلق روس سے تھی اور وہ حاملہ بھی تھیں۔ ان تمام افرادکو مسلح دہشت گرد قرار دے کر خروٹ آباد کے علاقے میں پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔ سابق صوبائی حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لئے عدالتی ٹریبونل قائم کیا تھا جس نے یہ قرار دیا تھا کہ جس وقت ان افراد کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا اس وقت وہ نہتے تھے۔ ٹریبونل نے قتل ہونے والے اے ایس آئی رضاخان اور ایئر پورٹ روڈ پولیس سٹیشن کے سابق ایس ایچ او فضل الرحمان کاکڑ کوان غیر ملکیوں کی ہلاکت کے واقعے کا ذمہ دار ٹہرایا تھا۔ برطرفی کے فوراً بعد بھی رضا خان پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ اس حملے کے بعد رضا خان دبئی چلے گئے تھے۔ دوسری جانب بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے مند میں ایک دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئےجو ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ایک گاڑی میں سوار تھے ۔ اس کے برعکس سخت گیر موقف رکھنے والی بلوچ قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ نے کہا ہے کہ یہ دونوں راکٹ حملے میں ہلاک ہوئے۔ تنظیم کے ترجمان نے کوئٹہ میں جاری ہونے والے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ یہ راکٹ سیکورٹی فورسز کی جانب سے فائر کیا گیا۔ بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بلوچی کے شاعر شبیر بلوچ بھی شامل تھے۔ دریں اثنا ء فرنٹییر کور کے ذرائع کے مطابق مند ہی کے علاقے میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک مسلح شخص ہلاک ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دو موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن وہ رکے نہیں اور بھاگ کر قریبی پہاڑی علاقے میں روپوش ہوگئے۔ ایف سی اہلکاروں نے ان کاپیچھا کیا تو اس دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ دوسری جانب کالعد م یونائیٹد بلوچ آرمی نے کوہلو اور بلوچ نیشنل لبریشن آرمی نے مند میں سیکورٹی فورسز پر حملوں اور انہیں نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ۔ جب سرکاری ذرائع سے ان حملوں کی تصدیق کے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان کی تصدیق نہیں کی۔

اسی بارے میں