گوادر، چین اور بلوچ تحفظات

Image caption جب بلوچستان میں گورنر راج نافذ تھا تو اسلام آباد نے جلدی میں گودار کو چینی کمپنی کے حوالے کر دیا

چین اور جاپان پانچ چھوٹے جزیروں پر سینگ اڑائے ہوئے ہیں۔ تین پتھروں پر مشتمل دیاویو نامی ایک سات مربع کلومیٹر کا علاقہ مشرقی بحیرۂ چین کا حصہ ہے۔

باقی دنیا کے لیے یہ محض دوردراز کے چھوٹے جزیروں پر کنٹرول کا تنازع ہے، لیکن اقتصادی طور پر مضبوط چین اور جاپان کے لیے یہ جزیرے اہم اور ان کی قومی شناخت کا حصہ ہیں۔

جس طرح وسائل سے عاری یہ جزیرے اقتصادی طور پر مستحکم ممالک کے لیے اہم ہیں اسی طرح گوادر بھی بلوچ تاریخ اور شناخت سے بندھا ہوا ہے۔ یہ اقتصادی فوائد سے زیادہ قومی اہمیت رکھتا ہے۔ بلوچوں کا گوادر سے تعلق سولھویں صدی عیسویٰ میں حمل جیند سے شروع ہوتا ہے جب اس نے گوادر پر پرتگالی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کی تھی۔ آج تک اس کی منفرد شاعری بلوچ مزاحمتی ادب کا حصہ ہے۔

بلوچ احساسات سے عاری، پاکستان کی سیاسی اور فوجی اشرفیہ بلوچستان کو ثقافت اور قومی آگہی کے بغیر محض ایک انتظامی حصے کے طور پر چلاتی رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے بلوچ عوام کی رضامندی اور بین الاقوامی معیار کی شفافیت حاصل کیے بغیر گوادر کو چائنا اورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کو مزید برتھوں کی تعمیر اور فعال بنانے کے لیے منتقل کر دیا۔ سب سے زیادہ قابل حیرت بات اس عمل میں یہ تھی کہ پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی نے صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں ایک پہلے سے متنازع ٹھیکہ سرکاری چینی کمپنی کو منتقل کر دیا۔ اس موقع پر بلوچستان کا ایک بھی نمائندہ موجود نہیں تھا۔

سپریم کورٹ کے پہلے سے موجود حکم امتناعی کے تحت سنگاپور کمپنی گوادر پورٹ اتھارٹی کے اثاثے کسی دوسری پارٹی کو منتقل نہیں کر سکتی تھی، اسلام آباد نے جلدی میں گوادر کو اس سال فروری میں چین کے حوالے کر دیا جب بلوچستان میں گورنر راج نافذ تھا۔ اس کے علاوہ قومی قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی کمیشن یعنی آئی ایم ایف کا نیا کوڈ آف گوڈ پریکٹسس آن فسکل ٹرانسپرینسی کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھتے ہوئے ایک سٹریٹیجک ہیرا چین کو مناسب کارروائی کے بغیر دے دیا گیا۔

اس کے علاوہ میڈیا کو اس معاہدے کی کوئی تفصیل فراہم کی گئی اور نہ ہی گوادر پورٹ اتھارٹی یا کسی دوسری سرکاری ویب سائٹ پر شائع کی گئیں۔

بلوچستان حکومت کے ایک سینئیر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کئی مرتبہ کی درخواستوں کے باوجود وفاقی حکومت معاہدے کی مدت، بندرگاہ کے استعمال انتظامی ڈھانچہ، اخراجات اور منافع کی تقسیم کا طریقہ کار اور سب سے اہم سکیورٹی انتظامات سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ تک معلوم نہیں کہ اس کا محض اقتصادی استعمال ہوگا یا فوجی بھی۔

درحقیقت بڑی تعداد میں چینی کارکنوں کی موجودگی سے خدشہ ہے کہ بلوچستان کا یہ ساحلی علاقہ اور مکران کا خطہ مزید عسکریت پسندی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس علاقے میں پہلے ہی غیربلوچ سکیورٹی فورسز کی موجودگی جس میں فرنٹئر کور اور کوسٹ گارڈز شامل ہیں، کی بڑے پیمانے پر موجودگی کشیدگی اور بے چینی کا سبب بن رہی ہے۔

سیاسی طور پر جبر کی وجہ سے متاثرہ بلوچوں کو خدشہ ہے کہ چین کی بڑے پیمانے پر گوادر میں موجودگی عسکری کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گی جس سے بلوچ براہ راست متاثر ہوں گے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حکومت پاکستان، علاقائی طاقتیں اور بین الاقوامی برادری کا بلوچوں کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور قومی شکایات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ اکثر معاہدوں، سرگرمیوں اور منصوبوں کا مقصد بلوچ وسائل کا استحصال ہوتا ہے۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں بشمول مسلم لیگ ن، بلوچستان کے وسائل اور دولت کے بارے میں ضرور آگاہ ہیں لیکن انہیں وہاں کے درد، شکایات اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور انسانی المیوں کی پروا نہیں۔ تنازعات کے مناسب حل کے طریقہ کار اپنانے کی بجائے جس میں مناسب آئینی ضمانتیں، حقوق انسانی کی خلاف روزیاں روکنا اور بلوچوں کے زخم پر مرہم رکھنے شامل ہے، وہ کاروباری سوچ اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ بلوچستان کو بیرونی دنیا خصوصاً چین کو پیش کر کے معاشی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

بلوچوں کو خدشہ ہے کہ نواز شریف نے اگست کے دورہ چین کے دوران چین کو بلوچستان کے تانبے اور سونے کے ریکوڈک ذخائر اور گوادر دینے کی پیشکش کی ہے جس کے بدلے میں وہ چین سے توانائی کے شعبے، بلٹ ٹرین اور چند دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔ ان منصوبوں کا بنیادی فائدہ بلوچستان کے باہر کے لوگوں کو ہوگا۔

مرکز میں مسلم لیگ ن اور بلوچستان میں اتحادی حکومتوں کو احساس ہونا چاہیے کہ ان کی بیرونی دنیا سے معاہدوں کی کوشش بلوچوں کے بغیر سیاسی غم و غصے اور خطے میں کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

زیادہ آسان الفاظ میں گوادر بلوچوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ گوادر سے متعلق اسلام آباد کی جانب سے کسی بھی یک طرفہ فیصلے کی بلوچ عوام اور سیاسی جماعتیں ہر سطح پر مزاحمت کریں گی۔

ثنا اللہ بلوچ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بلوچستان سے رکن رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں