پرویز مشرف کے خلاف ایک اور مقدمہ درج

Image caption سابق وزیر اعظم بینظر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں بھی پرویز مشرف کے خلاف اعانت مجرمانہ کے تحت کارروائی کی جارہی ہے

اسلام آباد پولیس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن کے حوالے سے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا ہے۔ تھانہ آبپارہ پولیس سٹیشن کے انچارج قاسم نیازی کے مطابق سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف قتل اور اعانت مجرمانہ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

جولائی سنہ دو ہزار سات میں لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے اور اُس وقت کی حکومت اُنہیں ’شدت پسند‘ قرار دے رہی تھی جبکہ لال مسجد انتظامیہ کے مطابق اس آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے اور ہلاک ہونے والوں میں جامعہ حفصہ کی طالبات بھی شامل ہیں۔ اس آپریشن کے دوران گم ہونے والے متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

اُس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ ان افراد نے حکومتی عمل داری کو چیلنج کیا ہے جس کی وجہ سے اُن کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم بینظر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں بھی پرویز مشرف کے خلاف اعانت مجرمانہ کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نورالحق قریشی نے لال مسجد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی کے بیٹے ہارون الرشید کی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گُزار کے وکیل طارق اسد نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لال مسجد آپریشن کی تحقیقات کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے جج کی سربراہی میں قائم ہونے والے عدالتی کمیشن نے اس واقعہ کی ذمہ داری اُس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف پر عائد کی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ اس کمیشن کے سامنے اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز سمیت سابق وفاقی وزراء نے بھی اس واقعہ کی ذمہ داری اُس وقت کے صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف پر عائد کی تھی۔

درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ لال مسجد پر آپریشن کے لیے فوج طلب کرنے سے متعلق بھی آئین پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ طارق اسد کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وفاقی حکومت فوج بُلانے کا اختیار رکھتی ہے لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔

درخواست گُزار کے مطابق اسلام آباد پولیس لال مسجد کمیشن کی واضح سفارشات کے باوجود ملزم پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔

بینچ کے سربراہ نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو اس واقعہ کا فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اُنہیں توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف اس سے پہلے تین مقدمات درج ہیں جن میں سے وہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو قتل کیس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات میں ضمانت پر ہیں جبکہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمے میں وہ گرفتار ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے جبکہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف سابق فوجی صدر کے وکلاء نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت نے بھی سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں