’مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنا چاہتے ہیں‘

Image caption کراچی مشکلات سے دوچار ہے میں اس کی ہر طرح سے مدد کرنا چاہتا ہوں: نواز شریف

وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں اور حکومت قیام امن کے لیے سنجیدہ ہے۔

کراچی میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ کراچی میں بڑے بڑے چیلینجز ہیں جب تک مل کر حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے حل ممکن نہیں۔

’کراچی معاشی مرکز ہے جو اس وقت مشکلات سے دوچار ہے۔ میں اس کی ہر طرح سے مدد کرنا چاہتا ہوں۔‘

کراچی کے لیے ’امن حکمتِ عملی‘ کی تیاری

’کراچی میں اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز کی آمد‘

’مہاجر رپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ‘

میاں نواز شریف نے کراچی میں قیام امن کے لیے اپنی کاوشوں کا آغاز کردیا ہے۔ پہلےمرحلے میں انھوں نے سیاسی جماعتوں سے مشاورتی اجلاس کیا جس میں تحریک انصاف نے شرکت نہیں کی۔

وزیرِاعظم نے کراچی میں منگل کی شام تاجروں اور صنعت کاروں سے ملاقات کی اور انھیں یقین دہائی کرائی کہ حکومت قیام امن کے لیے سنجیدہ ہے۔

کراچی میں بدھ کو وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں امن امان کے حوالے سے حکمت عملی واضح کی جائےگی۔

گورنر ہاؤس کراچی میں میاں نواز شریف نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی۔

اس اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ نون، سنی تحریک، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور شہر میں قیام امن کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔

وزیرِاعظم نواز شریف نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ہمارا یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پچھلے دنوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہاں کوئی کہہ رہا ہے کہ فوج کو بلایا جائے کوئی ٹارگٹڈ آپریشن کی بات کر رہا ہے، کسی کا مطالبہ ہے کہ شہر کو رینجرز کے حوالے کیا جائے۔ ہم ان سب باتوں کا جائزہ لینے یہاں آئے ہیں۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی اور بابر غوری نے بھی مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ انھوں نے جرائم پیشہ افراد، گینگ وار، طالبان، کالعدم تنظیموں اور ریاست کے دشمن عناصر کے خلاف آپریشن تجویز کیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید کا کہنا تھا کہ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پولیس میں سیاسی بھرتیوں کو ختم کیا جائےاور غیر رجسٹرڈ موبائل سمز کو منسوخ کیا جائے۔

سینیٹر شاہی سید کے مطابق ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ آپریشن کسی قومیت، جماعت یا مسلک کے خلاف نہیں ہونا چاہیے بلکہ میرٹ پر جرائم پیشہ عناصر اور بدمعاشوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

دریں اثنا تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے یہ کہہ کر مشاورتی کانفرنس میں شرکت نہیں کی کہ انھیں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کےخصوصی اجلاس میں ڈاکٹر فاروق ستار کی شرکت کا دعوت نامہ منسوخ کردیا گیا ہے جس کی انھوں نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی کے مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔

سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں صرف ایک جماعت کی شرکت دوسری جماعتوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔

’پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔ یہ میٹنگ وفاقی حکومت کے کہنے پر ہو رہی ہے اور اگر فاروق ستار کو بلانا ہے تو دیگر جماعتوں کے نمائندوں کو بھی بلانا چاہیے تھا۔ ایک جماعت کو طلب کرکے دوسری جماعتوں کو نہ بلانے سے کوئی اچھا پیغام نہیں جائے گا۔‘

وزیرِاعظم کی شہر میں موجودگی کے موقعے پر سندھ پولیس نے بھی اپنی کارکردگی کا اظہار کیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ کراچی کی صورتحال قابل اطمینان ہے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آٹھ ماہ میں 661 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ان کارروائیوں کے دوران سو سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

’پولیس کو اسی لیے ہی ٹارگٹ کیا جارہا ہے کہ اس نے متحرک کردار ادا کیا ہے۔ پولیس کا حوصلہ بلند ہے۔ مسائل کے باوجود پولیس کام کر رہی ہے اور مقابلوں میں مصروف ہے۔ پولیس کسی سے نہیں ڈرے گی۔‘

اسی بارے میں