امریکی ’بلیک بجٹ‘ میں پاکستان پرخصوصی توجہ

امریکہ کی خفیہ دستاویزات کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کی پوری توجہ ایک طرف اگر القاعدہ اور شمالی کوریا پر ہے تو دوسری جانب اتنی ہی توجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ملک پاکستان پر ہے۔

یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس کے 178 صفحات پر مشتمل ’بلیک بجٹ‘ نامی دستاویز اور سی آئی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے لیک کی گئی دستاویزات سے حاصل کی ہیں۔

اخبار کے مطابق پاکستان پر خصوصی توجہ رکھنے کے لیے امریکہ نے ایک نیا تجزیاتی سیل بھی قائم کیا ہے۔

انٹیلیجنس کی خامیاں

بلیک بجٹ دستاویزات کے مطابق امریکی انتظامیہ کھل کر پاکستان کے حوالے سے جائزے کو بیان نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ پاکستان کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ امریکہ ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

پچھلے سال نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے کانگریس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے محفوظ ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ’میں کافی پراعتماد ہوں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔‘

تاہم رواں سال اسی بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اوپن سیشن میں اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

لیکن خفیہ دستاویزات میں ان کی ایک رپورٹ ہے جس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ان کا کہنا ہے ’پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سکیورٹی اور اس سے جڑے دیگر مواد کے بارے معلومات میں کمی ہونا ۔۔۔ انٹیلیجنس کی خامی ہے۔‘

دستاویزات کے مطابق امریکہ کی انٹیلیجنس ایجنسیاں پاکستان پر دو اہم شعبوں میں توجہ دے رہی ہے: ایک ہے انسداد دہشت گردی اور دوسرا ہے جوہری ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ۔

امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے رواں سال جو تیس ستمبر کو ختم ہو گا کے لیے القاعدہ اور اس کی حلیف تنظیموں کے لیے 16.6 بلین ڈالر مانگے ہیں جبکہ 6.86 بلین ڈالر ایٹمی، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مانگے گئے ہیں۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر خدشات

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو لے کر دو ممکنہ صورتحال سے فکر مند ہے۔

ایک تو یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر دہشت گرد حملہ کریں جیسے انہوں نے 2009 میں فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کی پر حملہ کیا تھا۔ دوسرا خدشہ جو کہ پہلے سے بھی بڑا خدشہ ہے یہ ہے کہ دہشت گرد پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس میں اثر و رسوخ بڑھا لیں اور اس پوزیشن میں آ جائیں کہ وہ یا تو ایٹمی حملہ کر دیں یا پھر ایٹمی ہتھیار سمگل کر سکیں۔

پاکستان کے پاس ملک بھر میں درجنوں لیبارٹریز اور پیداوار اور رکھنے کی جگہیں ہیں۔ پاکستان نے یورینیئم سے بم بنانے کے بعد اب پلوٹونیئم سے بم بنانے کی کوشش میں ہے۔

پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیار ایک جگہ سے دوسری جگہ کس طرح منتقل کرتا ہے اس بارے میں معلومات بہت کم ہیں۔ اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وہی مرحلہ ہے جہاں پر اس کے ایٹمی ہتھیاروں کی سکیورٹی حساس ہوتی ہے۔

پاکستانی فوج کے سابق افسر اور آرمز کنٹرول کے ڈائریکٹر فیروز خان کا کہنا ہے ’کسی کو یہ نہیں معلوم کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہتھیار کیسے منتقل کیے جاتے ہیں۔ گاڑیاں خفیہ انداز میں اور سخت سکیورٹی میں سفر کرتی ہیں۔ لیکن یہ نہیں معلوم کہ کیا مختلف پرزوں کو وار ہیڈ کے پاس لے جایا جاتا ہے یا وار ہیڈ کو دیگر پرزوں کے پاس منتقل کیا جاتا ہے۔‘

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بلیک بجٹ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ کی تشویش زیادہ اس بارے میں ہے کہ یہ پروگرام کیسے چلایا جا رہا ہے۔

بلیک بجٹ کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانےوالے ہتھیاروں کے بارے میں ایک خاص تجزیاتی سیل قائم کیا گیا ہے۔

امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور وزارت دفاع نے اس سیل کے ذریعے پاکستان کے سٹریٹیجک ہتھیاروں کی سکیورٹی کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔

تاہم اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت کے ایٹمی پروگرام کے محفوظ ہونے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

ماورائے آئین ہلاکتیں

ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے لیک کیےگئے دستاویزات میں سے ایک پاکستان میں فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں ماورائے آئین ہلاکتوں پر بھی ہے۔

دستاویزات کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں سالوں سے یہ رپورٹ کر رہی ہیں کہ پاکستانی فوج کے افسران اور انٹیلیجنس ایجنسیاں مشتبہ دہشت گردوں اور دیگر جنگجوؤں کے ماورائے آئین ہلاکتوں میں ملوث ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جولائی 2011 میں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے کمیونیکیشن انٹرسیپت کی اور دیگر رپورٹس کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچی کہ سولہ ماہ سے پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیاں کے مخصوص طریقے سے اپنے ممکنہ دشمنوں کو بغیر کسی مقدمے کے ہلاک کر رہے ہیں۔

’این ایس اے کے مطابق یہ ہلاکتیں اگر سینیئر افسران کی رضامندی سے نہیں تو ان کے علم میں ضرور تھیں۔‘

نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے اپنی رپورٹ ’پاکستان / انسانی حقوق: ماورائے آئین ہلاکتیں سینیئر انٹیلیجنس ایجنسیوں کے افسران کی رضا مندی سے ہوتی ہیں‘۔

اس حوالے سے دو افسران سینیئر پاکستانی افسران کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے ’بظاہر کچھ ہلاکتوں کے احکامات دیے تھے یا کم از کم ان کو ان ہلاکتوں کا علم تھا۔‘

اس رپورٹ میں ایسی ہلاکتوں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا یہ ماننا ہے کہ ’یا تو ان کے دہشت گرد کارروائیوں میں ہاتھ ہے یا پھر انہوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں‘۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماورائے آئین ہلاکتوں میں حصہ دار بننے میں پاکستان کی پولیس میں ’ہچکچاہٹ‘ ہے۔

انسانی حقوق کی پامالی

امریکی حکام نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو منظٌرِ عام پر نہ لایا جائے۔

ستمبر 2009 میں اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے واشنگٹن ایک خفیہ کیبل میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں ماورائے آئین ہلاکتوں کا ذکر کیا تھا۔ یہ کیبل وکی لیکس کی جانب سے 2010 میں منظر عام پر لائی گئی۔ اس کیبل میں مشورہ دیاگیا تھا کہ ان معلومات کو عام نہ کیا جائے کیونکہ امریکہ کے لیے پاکستانی فوج کے ساتھ اچھے مراسم ضروری ہیں۔

ایک اور انٹیلیجنس دستاویز میں کہا گیا کہ صرف دہشت گردوں ہی کو منظم طریقوں سے ہلاک نہیں کیا گیا۔

ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کی خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی 2012 میں امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو شواہد ملے کہ پاکستانی افسران مشہور انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کو قتل کرانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ان افسران کی نشاندہی نہیں کی گئی جو یہ منصوبہ بنا رہے تھے تاہم منصوبے کے مطابق ’یا تو شدت پسندوں کو یہ کام دیا جائے کہ عاصمہ جہانگیر کو بھارت میں ہلاک کریں یا پھر پاکستان میں شدت پسندوں کو یہ کام سونپا جائے‘۔

رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ آیا آئی ایس آئی کی جانب سے یہ منصوبہ تھا یا نہیں۔

اس منصوبے کی خبر کچھ ہی ہفتوں بعد سامنے آئی اور عاصمہ جہانگیر نے بہت سارے انٹرویو دیے جس میں انہوں نے انٹیلیجنس اہلکاروں کی جانب سے ان کو ہلاک کرنے کے منصوبے کے بارے میں بات کی۔

پاکستان کا ردِعمل

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جوہری تحفظ اور سیکورٹی کے امور پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ پوری طرح رابطے میں ہے۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ترک اسلحہ اور جوہری عدم پھیلاؤ کے مقاصد پر پوری طرح ثابت قدم ہے اور ایٹمی اسلحے کے حامل ملک کی حیثیت سے پاکستان کی پالیسی تحمل اور ذمہ داری پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی اقداراور ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے مقرر کردہ معیار کی پوری طرح پابندی کرتا ہے۔

اسی بارے میں