نواز کی تیسری حکومت اور تیسرا آپریشن

Image caption نواز شریف نے پہلی مرتبہ اقتدار سنھبالنے کے بعد سندھ میں ڈاکو اور اغوا برائے تاوان کے واقعات کے خاتمے کے لیے فوج بلوائی

پاکستان کے تجارتی شہر کراچی گزشتہ کئی دہائیوں سے لسانی اور فرقہ ورانہ فسادات کی زد میں رہا ہے۔ شہر کے مسائل کے حل کے لیے منظم فوجی آپریشن ہوئے لیکن ابھی تک شہر کے حالات وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہوئے ہیں۔

کراچی میں پہلا منظم فوجی آپریشن انیس جون سنہ انیس سو بانوے میں شروع ہوا۔ نواز شریف نے پہلی مرتبہ اقتدار سنھبالنے کے بعد سندھ میں ڈاکو اور اغوا برائے تاوان کے واقعات کے خاتمے کے لیے فوج بلوائی۔ یہ آپریشن شروع تو اندرونِ سندھ سے ہوا لیکن پھر اس کا دائرہ کار بڑھتے بڑھتے کراچی تک بھی پہنچ گیا۔ سندھ بھر میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی۔ اس آپریشن کے دوران ایک نئی جماعت مہاجر قومی موومنٹ حقیقی سامنے آئی۔

نواز شریف کی حکومت برطرف ہونے کے بعد بینظیر بھٹو اقتدار میں آئیں اور انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کی سربراہی میں کراچی میں از سرِ نو آپریشن شروع کیا لیکن فوج کے بجائے اس آپریشن میں پیرا ملٹری فورسز نے حصہ لیا اور شہر میں رینجرز کو بلایا گیا۔ حکومت نے باقاعدہ اعلان کیا کہ یہ آپریشن متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف ہو گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہر میں کیے گئے یہ آپریشنز سیاست کی نظر ہوئے اور مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔

اکتوبر انیس سو اٹھانوے میں شہر کی مشہور سماجی شخصیت اور سابق گورنر حکیم سعید کے قتل کے بعد وفاقی حکومت نے سندھ حکومت معطل کر کے صوبے میں گورنر راج لگا دیا۔ شہر میں محدود آپریشن ہوا۔ اس دور میں نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم تھے۔

نواز شریف نے تیسری بار اقتدار میں آنے کے بعد کراچی میں جرائم کے خاتمے کے لیے ایک بار پھر آپریشن کرنے کی منظوری دی ہے۔

شہر کی نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے شہر میں فوج بلوانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن وفاقی حکومت نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن رینجرز کی نگرانی میں ہی کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے میں کراچی میں اغوا برائے تاوان، بھتہ مافیا، زمینوں پر قبضے اور ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل بہت بڑھ گئے ہیں۔

کراچی میں رینجرز اس وقت سے تعینات ہے جب کراچی یونیورسٹی طلبا تنظیموں کے جھگڑے کے بعد یونیورسٹی میں رینجرز بلائی گئی تھی۔ رینجز ابھی بھی کراچی میں موجود ہے اور وقتاً فوقتًا رینجرز کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا اور انھیں اضافی اختیارات بھی ملے لیکن شہر میں امن قائم نہ ہو سکا۔

تجزیہ کار کے خیال میں وقت کے ساتھ ساتھ کراچی میں رینجر کی افادیت کم ہوئی ہے اور شہری بھی رینجز کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ کراچی میں رینجرز کے نگرانی میں آپریشن تو ہو رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہونے والا آپریشن کیسے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔

دفاعی امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کراچی میں آپریشن سے پہلے تمام امور پر غورکیا جائے اور یہ کارروائی کسی ایک گروہ یا جماعت کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔

’آپریشن جامع منصوبہ بندی کے ساتھ ہونا چاہیے اگر سیاسی، معاشی اور عسکری امور کا جائزہ لیے بغیر آپریشن کیا گیا تو یہ فائدہ پہنچانے کے بجائے حکومت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔‘

عائشہ صدیقہ کے مزید کہنا تھا کہ رینجرز اور پولیس میں آپریشن کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

کراچی کے سینیئر صحافی قیصر محمود کہتے ہیں کہ آپریشن کی کامیابی جب ہی ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ گروہوں کی پشت پناہی ختم کر دیں۔

’چیزوں کو سیاست سے الگ کرنا پڑے گا۔ مختلف گروہوں کے ساتھ حکومتی اہلکاروں کے جو روابط ہیں انھیں ختم کرنا ہو گا۔ جن کے ذریعے یہ آپریشن کروایا جا رہا ہے انھیں بھی تحفظ دینا پڑے گا۔‘

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نواز شریف نے اپنی حکومت کے پہلے دو ادوار میں بھی کراچی میں آپریشن کیا اور اب تیسری بار حکومت میں آنے کے بعد بھی وہ کراچی میں آپریشن کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسائل میں گھرے شہر کراچی میں حالات کی درستگی کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو ایک نکتے پر متفق ہونا بہت ضروری ہے۔ شہر میں قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کا نظام درست کیے بغیر شہرمیں حقیقی امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں