قتل کی منصوبہ بندی کی تحقیق کی جائے: عاصمہ

Image caption عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کمیش کی چیئر پرسن بھی رہی ہیں

پاکستان کی معروف قانون داں اور انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو قتل کرنے کے منصوبے کے بارے میں تحقیق کرائی جائے کہ یہ منصبوبہ کس سطح اور کس نے کس کے کہنے پر بنایا تھا۔

لندن میں بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ان اطلاعات کی تو اب تصدیق ہو چکی ہے کہ قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا انھوں نے اس بات کا پہلے اظہار کیا تھا جس کے بعد ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے جاری کردہ مسودات میں ان کی تصدیق ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان اطلاعات سے پاکستان کے مقتدر اداروں کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے اور یہ ان اداروں کی اپنی ساکھ کے مفاد میں ہے کہ ایسی خبروں کی بھرپور تحقیق کرائی جائے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں لوگوں کی گمشدگیوں اور قتل ہونے کے الزامات پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر عائد کیے جاتے ہیں جن کو اس طرح کی خبروں سے تقویت ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا کہ ایسے تمام الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت پاکستان کی ریاست اور حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری کہ تمام شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے۔

اسی بارے میں