آگے سمندر ہے

Image caption کراچی میں آپریشن ہوتے رہے لیکن حالات جوں کے توں ہیں

جتنے آپریشن اب تک کراچی کے ہوئے ہیں اگر کسی مریض کے ہوتے تو اب تک یا تو صحت یاب ہو جاتا یا اگلے جہان سدھار چکا ہوتا۔اور اگر یہ نہ بھی ہوتا تو کم از کم آپریشن کرنے والے ڈاکٹر ہی کچھ سیکھ گئے ہوتے۔ لیکن یہاں تو وہ عالم ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا:

مریضِ عشق پر رحمت خدا کی مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

نواز شریف کی پہلی حکومت میں کراچی میں آپریشن جاری تھا۔ کہیں سے جناح پور کے نقشے برآمد ہو رہے تھے، ہر محلے میں ایک ٹارچر سیل دریافت ہو رہا تھا۔ کورنگی اور لالوکھیت میں لونڈے لپاڑے فوجیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے اور ابھی بریکنگ نیوز ایجاد نہیں ہوئی تھی، اس لیے شام کو صحافی بھائی ایدھی سینٹر کو فون گھماتے، ہسپتالوں کا چکر لگاتے شام کو ایک دوسرے سے پوچھتے آج کیا سکور ہوا ہے۔ خبر فائل کرتے اور پھرچائے سموسے پر شہر کا نوحہ پڑھتے۔ ایسی ہی ایک شام غریباں میں ایک درد مند خاتون صحافی آئیں اور سب کو یہ کہ کر ڈانٹا کراچی جل رہا ہے اور تم لوگ بیٹھے سموسے کھا رہے ہو۔ اس وقت کراچی کی آبادی ایک کروڑ سے قدرے کم تھی۔

ایک اور آپریشن کے لیے تھیٹر تیار کیا جا رہا ہے۔ جراح دستانے پہن رہے ہیں مریض کو بتایا جا رہا ہے کہ تھوڑی تکلیف تو ہوگی لیکن اب نشتر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ کراچی کی آبادی اس وقت دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ کراچی کے لوگ باقی پاکستانیوں سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں۔ آبادی میں اس اضافے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں حالات کراچی سے بھی زیادہ خراب ہیں یا ملک کے بڑے حصے تک یہ اطلاع نہیں پہنچی کہ کراچی بوری بند لاشوں، بھتہ خوروں، قبضہ گروپوں اور گینگ وار والوں کا شہر ہے۔

اگر ایسا نہیں ہے تو لوگ اب بھی یہاں کیوں کھنچے چلے آتے ہیں۔ میر پور سے اگر کوئی مانچسٹر نہیں جا سکتا تو نوکری کی تلاش میں کراچی آتا ہے، بالاکوٹ میں جب زلزلہ آتا ہے تو متاثرین کراچی کا رخ کر تے ہیں، سرائکی علاقوں میں کاشتکاری سیلاب کی نذر ہوتی ہے وہ کراچی آنے والی بس پر سوار ہو جاتے ہیں۔ بلوچستان میں لڑکا بی اے پاس کرے تو کہاں جائے؟ کراچی۔ اور یہ تو پچھلے چند سالوں کا قضیہ ہے اس سے پہلے بنگلہ دیش، نیپال، ایران اور افغانستان سے بھی لوگ پناہ اور روزگار کی تلاش میں یہاں آتے رہے ہیں۔

ہر آپریشن سے پہلے صدائیں اٹھتی ہیں کہ کون کس کو مار رہا ہے، نوگو ایریاز کہاں ہیں، کس سیاسی جماعت کا عسکری ونگ ہے اور کس عسکری ونگ نے سیاسی جماعت بنا لی ہے۔ یہ سوال کوئی نہیں پوچھتا کہ آخر یہ دو کروڑ انسان زندہ کیسے رہتے ہیں۔ لاشیں کون اٹھاتا ہے، کوڑے کا دھندہ کتنے کا ہے، لوگ گھر سے کام تک کیسے پہنچتے ہیں، کچی آبادیوں میں زمین کا قبضہ کس کے پاس ہے۔

اسلحہ زیادہ لیاری میں ہے یا ڈیفنس میں۔ شہر میں موبائل فون زیادہ ہیں یا کچرا اٹھا کر دہاڑی کمانے والے۔ شہر میں اتنے زیادہ کوے کہاں سے آگئے اور باقی پرندے کہاں چلے گئے۔

نہ صرف یہ کہ ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے بلکہ کسی کو یہ سوال پوچھنے کی توفیق بھی نہیں ہوتی کراچی والوں کو پہلے یہ کہ کر ڈرایا جاتا تھا کہ آگے سمندر ہے۔ اب اس کا علاج دریافت کر لیا گیا۔ اب سمندر کو پیچھے دھکیل کر ڈیفنس کا ایک نیا فیز بنالیا جاتا ہے اور بیچنے کے لیے قرعہ اندازی کی جاتی ہے۔ اور فیز تو جب بنے گا تب بنے گا، اس سے پہلے پلاٹ کی فائل ہی ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہے۔ تو یوں کہیے کہ کراچی کے کاریگر سمندر کو فائل میں بند کر کے بیچ دیتے ہیں۔

کراچی کا نوحہ پڑھنے والے اکثر پوچھتے پائے جاتے ہیں کہ یہاں انسانی خون اتنا ارزاں کیوں ہے۔ جواب سب کے سامنے ہے۔ اس لیے کہ زمین بہت مہنگی ہے ڈیفنس فیز 8 میں پلاٹوں کی قیمتیں دیکھی ہیں۔

اور ڈیفنس کیا کراچی میں تو کچی آبادیوں کی جھگیاں بھی خون مانگتی ہیں۔ نثار بلوچ گٹر باغیچہ بچانے کے چکر میں تھا تاکہ اس کے بچوں کے پاس کھیلنے کے لیئے کوئی جگہ تو ہو۔ پروین رحمان کراچی کے گوٹھوں کی گنتی کرتی تھی اور غریبوں کو نالیاں اور گٹر بنانا سکھاتی تھی۔ دونوں کو دوستوں نے سمجھایا مارے جاؤ گے بعض نہیں آئے مارے گئے۔ کوئی آپریشن نہیں ہوا۔

ماضی میں جو آپریشن ہوئے وہ اس طرح کے تھے جن میں سرجن آپریشن کے بعد کبھی تولیہ پیٹ میں بھول جاتا اور کبھی قینچی۔ اور کبھی تو آپریشن دائیں گردے کا کرنا ہو تو چاقو بائیں پر چل جاتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ مریض آپریشن تو کروانا چاہتا ہے لیکن اسے سرجن کی نیت اور اسکے کمال فن کے بارے میں کافی شہادت ہیں۔

کراچی پریس کلب کے باہر جہاں پورا کراچی اپنے دکھڑے سنانے آتا ہے کبھی کبھی ایک نوجوان بانسری بجاتا پایا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے دل کا رانجھا ہو لیکن یہاں اس امید میں آتا ہے کہ شاید کوئی اس کی بانسری خرید لے۔ کراچی پہنچ کر رانجھا بھی سیلز مین بن جاتا ہے کبھی دل کرتا ہے کہ اسے چھیڑوں اور کہوں کراچی جل رہا ہے اور تم یہاں بیٹھے بانسری بجا رہے ہو۔