پاکستان نے سات طالبان قیدی رہا کر دیے

Image caption افغان حکومت الزام لگاتی رہی ہے کہ پاکستان میں طالبان کو پناہ گاہیں میسر ہیں

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے سات طالبان قیدی رہا کر دیے ہیں تاکہ افغانستان میں امن کے قیام میں مدد دی جا سکے۔

وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان طالبان کو ’افغان کی مفاہمت کے عمل میں مزید مدد دینے کے لیے‘ رہا کیا گیا ہے۔

پاکستان نے یہ قدم اس وقت اٹھایا ہے جب حال ہی میں افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

نواز شریف اور کرزئی کے درمیان مری میں ملاقات

کیا کسی پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے؟

افغانستان نے طالبان سے مذاکرات کی پیش کش مسترد کر دی

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس وقت کہا تھا کہ وہ افغانستان میں استحکام کے لیے مدد کرنا چاہتے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ رہا ہونے والے قیدیوں میں عبدالسلام بریالی، منصور داد اللہ، سید ولی، کریم آغا، محمد زئی، گُل محمد، شیر افضل شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان طالبان قیدیوں کو آج رہا کیا گیا۔

گذشتہ برس بھی 26 طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

صدر حامد کرزئی نے اپنے دورے میں طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے پاکستان سے مدد کی درخواست کی تھی، اور کہا تھا کہ دونوں ملکوں کا بڑا مسئلہ امن و امان کی خراب صورتِ حال ہے۔

افغانستان سمجھتا ہے کہ پاکستان میں طالبان کو پناہ گاہیں حاصل ہیں، جو افغانستان میں فساد کی بنیادی وجہ ہیں۔

پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے اندر موجود عناصر پر طالبان کی حمایت کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی حکومت اس کی شدت سے تردید کرتی ہے۔

حامد کرزئی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرے کیوں کہ اس کا طالبان پر اثر و رسوخ ہے۔

طالبان حامد کرزئی کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرنے سے انکاری ہیں کیوں کہ وہ انھیں امریکی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں۔

افغان صدر خاص طور پر طالبان کے سیکنڈ ان کمان ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کے متمنی تھے، جنھیں 2010 میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

بی بی سی کے ذرائع نے کہا ہے کہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ملا برادر کو سعودی عرب یا عرب امارات منتقل کر دیا جائے تاہم پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نے اس قسم کی کسی تجویز کی تصدیق نہیں کی۔

اس سے قبل جون کے مہینے میں قطر میں ہونے والے امن مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں