سیاست کا ہوڈینی

Image caption وہ معروف جادو گر ہوڈینی ثابت ہوئے جو کہ بڑے سے بڑے مسئلے سے بھی باہر نکل آتا تھا

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے صدارتی عہدے کی آئینی پانچ سالہ مدت مکمل کرتے وقت کہا تھا کہ وہ ایک ’مطمئن شخص‘ کے طور پر یہ عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

ان کے دورِ اقتدار میں پاکستان نے داخلی اور عالمی سطح پر مختلف تاریخی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ ان کے حلیف پانچ سال میں آصف زرداری کی سیاسی مہارت کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے حریف ملک میں بگڑتی امن و امان کی صورتحال، بدعنوانی اور توانائی کے بحران کی مالا جپتے ہیں۔

کہانی جب شروع ہوئی تھی تو لوگ بات کر رہے تھے صدر زرداری کے اقوام متحدہ کے روسٹم پر اپنی اہلیہ اور ملک کے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی تصویر رکھنے کی یا پھر شاید امریکی نائب صدارتی امیدوار سارہ پالِن کے ساتھ ان کی گفتگو کی۔ کہانی کا اختتام صدر کے ملک سے باہر جانے پر پابندی اور ان پر مقدمات کی قیاس آرائیوں سے ہو رہا ہے۔

اسلام آباد میں الوداعی تقریب میں انہوں نے کہا کہ ’ہم کئی مسائل کے حل میں وہ نتائج حاصل نہیں کرسکے جو کرنے چاہیے تھے۔ ہمیں اس کا اعتراف ہے۔ میں نے یہ عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد کہا تھا کہ ہم شہ سرخیاں بنانے نہیں بلکہ تاریخ بنانے آئے ہیں اور یہ میں نے حاصل کر لیا ہے۔‘

اس بیان میں صدر زرداری کا اشارہ کس جانب تھا؟ کیا وہ اپنی حکومت ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کی سابق چیئرمین بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا نہ دلوا سکے۔ یا پھر ان کا ذکر اس بات کا تھا کہ بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دو ہزار دس میں پاکستان کو بدعنوان ممالک کی فہرست بیالیسویں سے اٹھا کر چونتیسویں نمبر پر ڈال دیا تھا۔

یہ دونوں موضوعات صدر زرداری کے دورِ اقتدار میں کئی بارے اٹھائے گئے پر شاید کسی کے پاس بھی ان کا جواب نہیں ہے۔ عوام نے شاید ’مسٹر ٹین پرسنٹ‘ کا نام تو بھلا دیا ہے مگر اس ساکھ کو صدر رد نہیں کر پائے۔

تنقید و تعریف اپنی جگہ صدر زرداری کے دور میں بہت سے اہم واقعات پیش آئے۔ اب جب انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے تو ان میں سے چند پر نظر ڈالتے ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم

پاکستان کے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کا مقصد جیسے گناہوں کی تلافی تھا۔

اس ترمیم کے تحت سابقہ آمروں کے متعدد اقدامات کالعدم قرار دیے گئے۔ فوجی صدر مشرف کی سترہویں ترمیم اور لیگل فریم ورک آرڈر کو منسوخ کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے صدر کے پاس اسمبلیاں توڑنے کا اختیار نہ رہا اور 58 ٹو بی نامی معروف قانون ختم ہوگیا۔

Image caption صدر زرداری اور میاں محمد نواز شریف نے کئی بار مفاہمتی سیاست کو ترجیح دی

ملک میں ’جمہویت کے عمل کو مضبوط تر‘ بنانے کے لیے متعدد وزارتوں کو صوبائی سطح پر منتقل کر دیا گیا۔ وفاق اور صوبائی حکومت کی قانون سازی کے لیے جو مشترکہ فہرست (کنکرنٹ لسٹ) کو بھی منسوخ کر دیا گیا جبکہ ججوں کی تقرری کے لیے عدالتی کمشن اور پارلیمانی کمیٹیوں کا طریقہِ کار تشکیل کیا گیا۔

بیسویں آئینی ترمیم میں آزاد الیکشن کمشن کے قیام کو یقینی بنایا گیا۔ اس حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے حکومت اور حزبِ اختلاف میں اتفاقِ رائے کو ضروری بنا دیا گیا۔ مئی دو ہزار تیرہ کے انتخابات اسی قانون کے تحت کروائے گئے۔

اس کے علاوہ اختیارات کے تناظر میں صدر زرداری نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی سربراہی بھی وزیرِاعظم کو منتقل کر دی۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ملک کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اہم ترین ادارہ ہے۔

ججوں کی بحالی

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے جب ملک کے چیف جسٹس چوہدری محمد افتخار کو اُن کے عہدے سے ہٹایا تو ملک بھر میں چوہدری افتخار کی بحالی کے لیے تحریک چل پڑی۔ یہی تحریک صدر مشرف کے گلے کا پھندا بنی اور انہیں صدارت چھوڑنا پڑی۔

آصف علی زرداری کے عہدہ سنبھالنے کے بعد مظاہروں میں اتنی شدت آگئی کہ حکومت کو پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ آخرکار حکومت نے مارچ دو ہزار نو میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو بحال کر دیا۔

این آر او، سوئس کیس اور سپریم کورٹ

Image caption صدر کے سوئس کیسز کی نذر ایک منتخب وزیرِاعظم بھی ہوئے

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے منظور کردہ قانون ’قومی مفاہمتی آرڈیننس‘ کے تحت متعدد سیاستدانوں کے خلاف مقدمات ختم کیے گئے تھے اور اسی طرح آصف علی زرداری عملی سیاست میں واپس آ سکے تھے۔

مگر سپریم کورٹ نے وکلاء تحریک کی کامیابی کے بعد اس قانون کی کالعدم قرار دے دیا۔

سوال یہ پیدا ہوا کہ صدر زرداری کے خلاف مقدمات کھل سکتے ہیں یا نہیں؟ بطور صدر انہیں عدالتی کارروائی سے استثنیٰ تو حاصل تھا تاہم سپریم کورٹ کا اصرار رہا کہ صدر زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں موجود مقدمات کے حوالے سے حکومت سوئس حکام کو خط لکھے۔

اسی خط کے حوالے سے جہاں وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دے دیا گیا وہاں وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی کٹہرے میں آنا پڑا۔

بھارت، میمو گیٹ، اسامہ اور سلالہ

خارجہ پالیسی کے حوالے سے صدر زرداری نے شاید باتیں زیادہ اور کام کم کیا۔

اپنے دورِ اقتدار میں بھارت سے تعلقات میں بہتری کی طرف اشارہ کیا اور پسندیدہ ترین ملک کے تجارتی سٹیٹس کی بھی بات ہوئی مگر عملی طور پر معاملے میں زیادہ پیش رفت نہ ہو سکی۔

امریکہ، افغانستان اور اس سے منسلک دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کی کمان فوج کے پاس ہی رہی۔

نومبر دو ہزار گیارہ کو مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو افواج کے حملے میں چوبیس پاکستانی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے نیٹو سپلائی بند کر دی اور بلوچستان میں واقع شمسی ایئر بیس خالی کروا لیا تاہم بعد میں پاکستان نے نیٹو سپلائی کی بحالی کا اعلان کیا۔

Image caption صدر زرداری کے دور میں امریکہ کی بن لادن کے خلاف یکطرفہ کارروائی بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بنی

دو مئی دو ہزار گیارہ کو امریکی فوج کے ایک خصوصی دستے نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کارروائی کر کے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا۔ صدر براک اوباما کے انسداد دہشت گردی کے مشیر جان برینن کے مطابق پاکستان کو آپریشن کی خبر اس وقت دی گئی جب امریکی دستے آپریشن کی کامیابی کے بعد پاکستان سے باہر جا چکا تھا۔

صدر زرداری نے تو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو ایک خوشخبری کہا مگر ایک اہم ترین دہشتگرد کے ایبٹ آباد میں پائے جانے اور امریکی فوجی کارروائی کے سامنے پاکستانی افواج کی لاعلمی کے بارے میں بہت شور مچایا گیا۔

ہاں اور ایک معاملہ میمو گیٹ کا بھی تھا۔ اُس وقت کے امریکی فوجی سربراہ ایڈمیرل مائک مولن کو ایک متنازع مراسلہ بھیجا گیا جس میں پاکستانی فوج کو جمہوری حکومت کے خلاف کارروائی سے روکنے کے لیے امریکی فوجی قیادت سے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

مستقبل کیسا رہے گا؟

Image caption صدر کا کہنا ہے کہ اب ان کی ترجیح پی پی پی کو دوبارہ ایک کامیاب جماعت بنانا ہے

دیکھنا ابھی یہ ہے کہ صدارتی عہدہ چھوڑنے کے بعد کیا آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولے جائیں گے؟ ملک کے ایک سابق صدر اس وقت اپنے گھر میں نظر بند ہیں اور کیا نواز حکومت ایک اور سابق صدر کے خلاف کارروائی کرے گی؟

صحافی اور انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز کے مدیر راشد رحمٰن کہتے ہیں کہ سوئس کیسز کو کھولنا تو مشکل ہوگا کیونکہ ان کی مدت ختم ہو چکی ہے اور بغیر کسی نئے ٹھوس شواہد کے وہ کیسز نہیں کھل سکیں گے۔

پاکستان میں موجود کیسز کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’وہ کیسز کئی سالوں سے چل رہے ہیں مگر ان سے حاصل کچھ نہیں ہوا۔ تو اگر کوئی پھر سے اس چکی کو چلانا چاہے تو اسے قانوناً روکا تو نہیں جا سکتا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس سے حاصل کم ہی ہوگا۔‘

’ابھی تک تو ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ یہ حکومت ان مقدمات کو کھولے گی۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ وزیرِاعظم نواز شریف نے صدر کو عشائیہ دیا اوران کو گارڈ آف آنر بھی ملا۔ ابھی تک تو ٹھیک ہے معاملہ۔‘

اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ صدر زرداری نے پاکستان کی صدارت کے عہدے کو جیسا پایا تھا اس سے بہت مختلف چھوڑ کر جا رہے ہیں۔