کسی ملک سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے: قرارداد

Image caption سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں: نواز شریف

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کُل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر متفقہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خلاف طریقہ کار اور وسائل کا فیصلہ خود کرے گی اور امریکہ سمیت کسی بھی ملک سے اس ضمن میں ڈکٹیشن نہیں لی جائے گی۔

ملک کو درپیش دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مسئلے پر جسے حکومتی سطح پر بعض اوقات جنگ کا نام بھی دیا جاتا ہے کُل جماعتی کانفرنس میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بریفنگ دی۔

اس کل جماعتی کانفرنس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین شامل ہوئے جن میں پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم اور خورشید شاہ، پی ٹی آئی کے عمران خان، جماعتِ اسلامی کے لیاقت بلوچ اور میاں اسلم، پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، اے این پی کے حاجی عدیل، جمعیت علمائے پاکستان ف کے مولانا فضل الرحمان، ایم کیو ایم کے فاروق ستار، بی این پی کے اختر مینگل، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے پیرپگاڑا اور دیگر ارکان شامل تھے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا وہ سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور وہ دہشت گردی، معیشت اور توانائی کے مسائل پر کبھی بھی سیاست نہیں کریں گے۔

اس کے علاوہ کانفرنس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی شرکت کر رہے ہیں، جنھوں نے سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردی کے مسئلے پر بریفنگ دی۔

انھوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے مذاکرات کے راستے کو ترجیح دی جائے گی لیکن حتمی فیصلہ قومی قیادت مشترکہ طور پر کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو گھمبیرمسائل اور کئی چیلنجوں کا سامنا ہے جس کے حل کے لیے دیرپا حل کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل طے کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی گرفت میں ہے اور امید ظاہر کی کہ جس طرح کراچی کے مسئلے پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں کے تعاون سے پیش رفت ہوئی، اسی طرح دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بھی سنجیدہ مذاکرات سے حل نکال لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اب تک چالیس ہزار سے زائد افراد دہشت گردی کی جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، اور ہمیں اس مسئلے کو حل کر کے قوم کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔

انھوں نے دہشت گردی سے پاکستان کو پہنچنے والی معاشی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے باعث ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی اور سرمایہ کار دہشت گردی کے باعث ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے گھبرارہے ہیں۔

انھوں نے کہا ’آل پارٹیز کانفرنسیں پہلے بھی ہو چکی ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تاہم اس مرتبہ مجھے امیدیں ہیں اورہم کوئی اچھا نتیجہ اخذ کر لیں گے‘۔

کُل جماعتی کانفرنس سے قبل، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے وزیر اعظم اور بّری فوج کے سربراہ جنرل کیانی سے علیحدہ ملاقات کی۔

ملاقات میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بات چیت ہوئی اور عمران خان اور پرویز خٹک نے اپنی تجاویز پیش کیں۔

واضح رہے کہ یہ کل جماعتی کانفرنس بارہ جولائی کو منعقد کروائی جانی تھی لیکن اسے بعد ازاں موخر کر دیا گیا۔

اسی بارے میں