اے پی سی: سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں کا مقبول طریقہ

Image caption ماہرین سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی کئی کُل جماعتی کانفرنسز اپنے مقاصد کُلی طور پر حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے

پاکستان میں اہم سیاسی مسائل پر مشاورت کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں کے ذریعے کے طور پر کُل جماعتی کانفرنس خاصہ مقبول طریقہ ہے۔ لیکن گزشتہ چند برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ مروجہ طریقہ ان مسائل کے حل میں کچھ زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو سکا۔

ویسے تو ملکی سیاسی تاریخ مختلف اقسام کی کُل جماعتی کانفرنسز سے بھری پڑی ہے لیکن اگر گزشتہ چند برسوں کا جائزہ لیں تو قومی سطح پر درجن بھر سے زائد اس نوعیت کی کانفرنس منعقد کی جا چکی ہیں۔

صرف رواں برس کی یہ تیسری کُل جماعتی کانفرنس ہے۔ اس سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی میزبانی میں انسداد دہشت گردی کے موضوع پر یکے بعد دیگرے دو کانفرنسز ہوئیں جن میں قیام امن کے لیے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کی گئیں۔

اسی یک نکاتی ایجنڈے پر سیاسی جماعتوں کا ایک اور اکٹھ دو برس قبل تیس ستمبر دو ہزار گیارہ کو ہوا تھا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی دعوت پر قریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔

اس کانفرنس کے دوران فوجی سربراہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ بھی موجود تھے۔ کانفرنس کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں سیاستدانوں نے آئی ایس آئی پر شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کے امریکی الزامات کا دفاع کیا گیا۔

اسی سال جنوری میں کراچی میں جاری خونریزی روکنے کی تجاویز کی تیاری کے لیے ایک کُل جماعتی کانفرنس حکومت سندھ کی میزبانی میں منعقد کی گئی۔ یہ اس نوعیت کی دوسری کانفرنس تھی۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کانفرنس کی سفارشات پر عمل ہوا کہ نہیں؟

پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دورحکومت میں متعدد اے پی سیز منعقد کی گئیں۔ کبھی بلوچستان کی صورتحال پر کبھی کراچی اور کبھی امریکہ کے ساتھ تعلقات ان اجلاسوں میں زیربحث آتے رہے۔ لیکن ان مسائل کے حل میں ان کانفرنسز نے کیا کردار ادا کیا، اس بارے میں نے کوئی ریکارڈ دستیاب ہے اور نہ ہی ان کے کریڈٹ پر کوئی کامیابی۔

اس سے پہلے پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی کُل جماعتی کانفرنسز کا رواج عام رہا۔ ان کا موضوع قدرے مختلف رہا۔ سیاسی رہنما کبھی جمہوریت کی بحالی کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم تلاش کرتے رہے اور کبھی عدلیہ کے خلاف حکومتی اقدامات کی مذمت۔ نتائج کے اعتبار سے یہ کانفرنسز بھی مشاورت تک ہی محدود رہیں۔

مبصرین جس آل پارٹیز کانفرنس کو پاکستان کے سیاسی افق پر ایک روشن ستارہ قرار دیتے ہیں وہ لندن میں جولائی دو ہزار سات میں مسلم لیگ کی میزبانی میں ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس ہے جس میں تیس سے زائد سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔

مبصرین کہتے ہیں کہ سیاستدانوں کا جو مشترکہ مؤقف سامنے آیا اسی کے نتیجے میں ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ تشکیل پایا اور جنرل پرویز مشرف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو سیاسی جگہ فراہم کرنے پر مجبور ہوئے۔

پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان کو درپیش اہم مسائل پر جماعتی کانفرنسز ہوتی رہی ہیں لیکن اہم ترین مواقع پر فیصلے بنا مشاورت، بالا بالا ہوتے رہے۔ ان میں گیارہ ستمبر کے امریکہ پر حملوں کے بعد پاکستان کے کردار کا تعین اہم ترین فیصلہ ہے جو بغیر کسی مشاورت کے بظاہر فرد واحد کی ایما پر ہوا۔

ماہرین سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی کئی کُل جماعتی کانفرنسز اپنے مقاصد کُلی طور پر حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی سرپرستی ہونے اور نواز حکومت کے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے پختہ سیاسی عزم کے باعث اس بار اس کانفرنس کے نتیجے میں طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔ تاہم یہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں گے، اس بارے میں باخبر حلقے زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ اور ویسے بھی اس کانفرنس کا مینڈیٹ مذاکرات شروع کروانے تک ہو گا، وہ کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام، اس کا انحصار اور ذمہ داری حکومت، فوج اور آئی ایس آئی پر ہوگی۔

اسی بارے میں