’26 لاکھ بچوں کے داخلے کا منصوبہ‘

Image caption یہ تقریب 500 سکولوں میں انٹرنیٹ کے زریعے براہ راست دکھائی گئی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے خواندگی کی شرح بڑھانے کے لیے ہر بچے کو سکول داخل کرنے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

منگل سے شروع ہونے والی اس مہم کے تحت صوبے میں 26 لاکھ بچوں کو سکول میں داخل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک سرکاری سکول میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ’خیبر پختونخوا میں کوئی 28 ہزار سکول ہیں جن میں 23 ہزار پرائمری سکول ہیں۔ لیکن ان سکولوں میں بنیادی سہولیات موجود ہی نہیں ہیں۔‘

خیبر پختون خوا: نصابی کتب میں تبدیلیاں: ویڈیو

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کرے گی۔ ’اگر پھر بھی کام نہ ہوا تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ وہ ایک ایک سکول کا معیار بلند کرنے کے لیے تعاون کریں اور وہ یہ ممکن کر کے دکھائیں گے۔‘

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس مہم کے لیے پشاور میں بڑے بڑے بورڈز لگائے گئے ہیں اور اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے آگہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔

اس موقعے پر صوبائی وزیرِ تعلیم عاطف خان نے کہا کہ ہر سال مارچ اور دسمبر میں دو سروے کیے جائیں گے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ مہم صرف کاغذی کارروائی رہی ہے اور یا واقعی وہ بچے مستقل بنیادوں پر سکول میں حاضر ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ والدین بچوں کو ضرور سکول بھیجیں اور حکومت تمام سکولوں کا معیار بہر کرے گی اور اس کے لیے تمام وسائل استعمال کرے گی۔

اس تقریب میں مقررین میں سے کسی نے ان بچوں کی مجبوریوں کا ذکر نہیں کیا جو گھر کے واحد کفیل ہیں اور سکول داخل ہونے کی صورت میں ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ جائے گی۔

مقررین اس مہم کے لیے ان بچوں کو بھی بھول گئے جن کے سکول شدت پسندی کی کارروائیوں کی وجہ سے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لگ بھگ چھبیس لاکھ بچے ایسے ہیں جن کی عمر سکول جانے کی ہے لیکن مختلف وجوہات کی بنیاد پر وہ سکول نہیں جا رہے۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں لگ بھگ آٹھ سو سکول دہشت گردی کے واقعات میں تباہ کیے گئے ہیں جبکہ اتنے ہی سکول سیلاب اور زلزلوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقوں اور صوبے میں شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے کوئی چھ لاکھ بچوں کا تعلیمی سلسلہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔

اسی بارے میں