کراچی: سانحۂ بلدیہ کی یاد میں

Image caption فائر بریگیڈ، اور واقعے کے تحقیقاتی ٹربیونل نے فیکٹری میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ قرار دے کر فائل بند کردی

سورج غروب ہونے کے ساتھ شمعیں روشن ہوتی ہیں اور سسکیاں، آہیں اور صدائیں بلند ہوجاتی ہیں۔ کسی کو بیٹے کی تڑپ ہے تو کوئی بھائی یا بہن کے لیے بین کر رہا ہے، کسی کی آنکھیں ہمسفر کی جدائی پر نم ہیں۔

حب روڈ پر یہ تمام سوگوار اپنے پیاروں کی یاد میں جمع ہیں جو گذشتہ سال گیارہ ستمبر کو ملبوسات کی فیکٹری علی انٹر پرائزز میں آگ لگنے سے جھلس کر یا دم گھٹنے کر ہلاک ہوگئے تھے۔

فیکٹری تو واقعے کے روز سے بند ہے لیکن اس کی عقبی حصے میں ہلاک ہونے والے تمام خواتین اور مرد مزدروں کی تصاویر کا پینا فلیکس لگایا گیا ہے، جس کے سامنے پھول کی پتیاں نچھاور کی گئیں ہیں۔

ان سوگواروں میں وہ سترہ خاندان بھی شامل تھے جن کی رشتے داروں کی شناخت نہیں ہوسکی تھی۔

سپر وائیزر اکمل کی بیگم شاہدہ شمع روشن کرنے آئی تھیں ان کے شوہر کی بھی شناخت نہیں ہوسکی تھی حالانکہ شناخت کے لیے تین بار نمونے لیے گئے تھے۔

’شناخت کے لیے اس قدر مشکلات ہوئی کہ گھر میں جو کچھ تھا وہ فروخت کردیا ، حکام کبھی کہتے تھے کہ کاغذ بنواکر لاو ، کبھی رات کو ٹیسٹ کے لیے طلب کرتے تھے، کرایوں اور خرچوں میں سب کچھ بک گیا لیکن شناخت نہیں ہوئی۔‘

عید کے روز شاہدہ کے بیٹے نے ضد کی کہ وہ اپنے والد کی قبر پر دعا پڑھنے جائے گا، شاہدہ کا کہنا ہے کہ وہ اس کو کیا بتاتی کہ اس کے والد کی قبر کہاں ہے؟ آخر بچے کو ماموں کے ساتھ مواچھ قبرستان بھیجا جہاں ان سترہ مزدوروں کی تدفین کی گئی تھی جن کی شناخت نہ ہوسکی تھی۔

بیٹے نے واپس آکر بتایا کہ اس نے ایک قبر پر پانی چھڑکا تو اسے والد کا چہرا نظر آیا، اس روز کے بعد اب وہ اسی قبر پر جاکر دعا پڑھتا ہے۔

شناخت نہ ہونے کی وجہ سے اکمل کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ نہیں ملا اور حکومت کی جانب سے معاوضے سے بھی یہ خاندان محروم ہے۔

شاہدہ اتحاد ٹاؤن کی کچی آبادی میں کرائے پر دو کمروں کے مکان میں رہتی ہیں اولڈ ایج بینیفٹ سے انہیں ہر ماہ چھتیس سو روپے ملتے ہیں اس کے علاوہ ان کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔

Image caption شناخت نہ ہونے کی وجہ سے اکمل کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ نہیں ملا اور حکومت کی جانب سے معاوضے سے بھی یہ خاندان محروم ہے

’پہلے تو ہر کوئی ساتھ دیتا رہا بعد میں ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف ہوگیا، دو بچے سکول جاتے ہیں جن کی تعلیم کا خرچہ بہن بھائی دے دیتے ہیں۔ کئی دنوں سے بیمار ہوں دوائی بھی نہیں لی، ڈاکٹر کہتا ہے کہ ٹینشن ہے اور کمزوری ہے دودھ وغیرہ پیو یہاں پر کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے دوائیں اور خوراک کہاں سے آئے۔‘

اکمل متاثرہ فیکٹری میں دس سال سے کام کر رہے تھے، ان کی بیگم بتاتی ہیں کہ واقعے سے کوئی چھ ماہ قبل جب ان کے شوہر گھر آئے تھے تو ان کے ہاتھ پیچھے سے تھوڑے جلے ہوئے تھے اس نے بتایا کہ فیکٹری میں آگ لگی گئی تھی۔’ میں نے کہا کہ کیا فیکٹری میں بھی آگ لگتی ہے ؟ اس نے جواب دیا تھا کہ چھوٹی موٹی آگ لگی تھی جس کو بجھاتے ہوئے ہاتھ جل گئے۔ اس روز سے ایک ڈر دل میں بیٹھ گیا تھا۔‘

آگ لگنے کے بعد علی انٹر پرائیز کی تمام کھڑکیاں بند تھیں جبکہ باہر نکلنے کا بھی ایک ہی راستہ تھا، جس کی وجہ سے ریسکیو کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی جانیں ضائع ہوگئیں۔

فائر بریگیڈ، اور واقعے کے تحقیقاتی ٹربیونل نے فیکٹری میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ قرار دے کر فائل بند کردی لیکن عدالتوں میں اس وقت چار مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

پولیس نے متاثرہ فیکٹری کے مالکان شاہد بھائیلا، ارشد بھائیلہ اور منیجر عزیز کو گرفتار کیا تھا جنہیں چند ماہ بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ پولیس کے تفیشی افسر نے عدالت میں مقدمے سے قتل عمد کی دفعہ خارج کرنے کی بھی گزارش کردی ہے۔

اس واقعے کے بعد صنعتوں اور مزدوروں کے بارے میں قوانین پر ترمیم اور پہلے سے موجود قوانین پر عملدرآمد پر کئی آوازیں اٹھیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آوازیں دب گئیں۔

ارشاد بھٹو ایک آئل فیکٹری میں کام کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کی فیکری میں آگ لگنے کی صورت میں وہاں کوئی حفاظتی انتظام نہیں ہے، حالانکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر تیل میں تھوڑی بھی لگی تو پورے کراچی کی فائر برگیڈ بھی اس کو نہیں بجھا سکے گی۔

پاکستان میں کارخانوں میں مزدور تنظیموں پر پابندی ہے لیکن ملک میں کئی تنظیمیں مزدور کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔

نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی نائب صدر دلدار احمد کا کہنا ہے کہ صرف سائیٹ کے علاقے میں ساڑھ تین ہزار کارخانے ہیں ان میں سے صرف ایک فیصد ایسے ہوں گے جن میں مزدروں کی سیفٹی اور سیکیورٹی کا خیال رکھا جاتا ہوگا باقی تو بس سرمایہ کمانے کی فکر میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مزدروں کے حوالے سے جتنے بھی سرکاری ادارے کام کر رہے ہیں وہ بے حس ہیں، جو بھی مراعات اور سہولیات ہیں اس سے مالکان بچنا چاہتے ہیں اور یہ ادارے اس میں ان کی مدد کرتے ہیں۔‘

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ذوالفقار شاہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کا بدترین صنعتی حادثہ تھا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرکے ملوث افراد کو مجرم ٹھرایا جاتا اور کم سے کم حکومت کچھ ایسے اقدامات اٹھاتی جس کے نتیجے میں مستقبل میں ایسے حادثات کو روکا جاسکتا لیکن بدقسمتی سے ایک سال گزر گیا اور ایسا کچھ بھی نظر نہیں آیا۔

ذوالفقار شاہ کے مطابق حکومت ایسی کوئی پالیسی لے کر آتی جو ہیلتھ اور سیفٹی کے بارے میں ہوتی، انسپیکشن کا جو میکنزم تھا وہ بحال ہوتا۔

یورپی یونین نے جنوری میں ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں پاکستان کی حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ حادثے کے ذمے داران کا تعین کرے، صحت و سلامتی کے متعلق قوانین کا اطلاق کرائے اور صنعتی اداروں کے معائنے کے لیے غیر جانبدرانہ انسپیکشن کا نظام تشکیل دے لیکن حکومتِ پاکستان نے مقامی اور بین الاقوامی دونوں ہی مطالبات پر تاحال کوئی کان نہیں دہرا۔

اسی بارے میں