اسلام آباد میں دو پولیس اہلکار ہلاک

Image caption ڈورہ گاؤں وفاقی دارالحکومت سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے

وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے ڈورہ گاؤں میں نامعلوم افراد نے اسلام آباد پولیس کے ایک افسر سمیت دو پولیس اہلکاروں کو اینٹیں مار مار کر ہلاک کردیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث افراد منشیات فروش ہیں جو علاقے میں مبینہ طور پر کُھلے عام منشیات فروخت کرتے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق تھانہ ترنول کی پولیس کے اہلکار جن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد رمضان اور محمد انصر اور دیگر پولیس اہلکار ایک مخبر کی اطلاع پر بدھ کو ڈورہ گاؤں میں گئے اور وہاں پر اُنہوں نے علاقے میں متعقلہ جگہ پر چھاپہ مارا تو اس دوران وہاں کا رہائشی محمد ندیم بھی وہاں آگیا اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی ہوگئی۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس پر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ شروع کردی جس سے محمد ندیم موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ متعقلہ تھانے کی پولیس کے انچارج میاں اشرف اس کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فائرنگ پولیس والوں نے نہیں بلکہ نامعلوم افراد نے کی ہے جس کی وجہ سے محمد ندیم ہلاک ہوئے۔

اس واقعہ کے بعد وہاں کے مقامی افراد نے چھاپہ مارنے والی پولیس کی ٹیم کے دو ارکان کو پکڑ لیا اور اُنہیں اینٹیں مار مار کر موت کے گھاٹ اُتار دیا جبکہ باقی پولیس اہلکار وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ان پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اسلام آباد پولیس کے اہلکار اپنے ساتھیوں کی لاشیں لینے علاقے میں نہیں گئے بلکہ وہاں کے کچھ بااثر افراد نے ان پولیس اہلکاروں کی لاشوں کو ہسپتال پہنچایا ہے جہاں پر اُن کی لاشوں کا پوسمارٹم ہوا ہے۔

اس علاقے کے بارے میں پولیس کی سپیشل برانچ اور خفیہ اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ منشیات فروشی کا گڑھ ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں اتنا غیر قانونی اسلحہ ہے کہ وہاں پر آپریشن کے آپشن پر بہت مرتبہ سوچنا پڑے گا۔

مقامی علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر خالد ندیم کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں مردوں کی بجائے خواتین منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں۔ اُنہوں نے تسلیم کیا کہ پولیس اس علاقے میں کارروائی کرنے سے گھبراتی ہے۔

اس علاقے سے متعلق خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو جو رپورٹ بھیجی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے کارکن بڑی تعداد میں موجود ہیں جو قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی وجہ سے وہاں سے نکل کر ترنول میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس علاقے سے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فرید خان کے قاتلوں کو گرفتار کیا ہے۔

اسی بارے میں