بیٹی کی ہلاکت:’کیونکہ اسے بیٹا چاہیے تھا‘

عمر
Image caption ’عمر زیب نے کہا تھا کہ اگر اس بار لڑکی ہوئی تو وہ زینب کو مار دیگا‘

پاکستان میں ایک شخص نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی کو پانی میں ڈبو کر ہلاک کیا ہے جس کا اب اسے افسوس ہے۔

28 سالہ عمر زیب کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ اسے بیٹا چاہیے تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پورے جنوبی ایشیا میں لڑکیوں کے قتل کے مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔

علیم مقبول کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کے باہر ہتھکڑیاں پہنے 28 سالہ عمر زیب سے ملے جنھیں عدالت لے جایا جا رہا تھا۔

عمر کا کہنا تھا کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہو گئی، پتہ نہیں ان کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔

عمر زیب حراست میں ہیں اور ابھی ان پر اپنی بیٹی کے قتل کا الزام عائد کیا جانا ہے۔ عمر نے قبول کیا کہ انھوں نے ہی اپنی بیٹی کو دریا میں ڈبو کر ہلاک کیا ہے۔

عمر کی اہلیہ 24 سالہ سمیرہ نے واقعے کی تفصیل بتائی۔

سمیرہ کا کہنا تھا کہ ’رات کے وقت عمر نے اچانک کہا کہ ہمیں اس کی بہن کے گھر جانا ہے۔ ہماری دونوں بیٹیاں ہمارے ساتھ تھیں۔‘

’ میرے شوہر نے کہا کہ میں نے زینب کو ٹھیک سے نہیں پکڑا اور اسے میری گود سے لے لیا۔‘

’لیکن راستے میں ہم دریا کے کنارے رُک گئے اور عمر نے میری آنکھوں کے سامنے ہی زینب کو دریا میں پھینک دیا۔

’دریا میں گرتے ہی زینب نے رونا اور چیخنا شروع کر دیا میں نے اسے بچانے کی کوشش کی تو میرے شوہر نے میرے ساتھ مار پیٹ کی، میں بے بس تھی اور رو رہی تھی۔‘

سمیرہ نے کہا کہ اس کے شوہر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ’میں نے کسی کو یہ بات بتائی تو وہ مجھے جان سے مار دے گا۔‘

سمیرہ کا کہنا تھا’ کئی دن تک میں پولیس کے پاس جانے سے ڈرتی رہی لیکن آخر کار ہمت کر کے میں نے اپنے والدین کو حقیقت بتا دی۔‘

سمیرہ کا کہنا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ اس کے شوہر نے اس کی بیٹی کو کیوں مارا، کیونکہ جب سے ان کی پہلی بیٹی ہوئی تھی عمر اس سے خوش نہیں تھا کیونکہ وہ بیٹا چاہتا تھا۔

’عمر زیب نے کہا تھا کہ اگر اس بار لڑکی ہوئی تو وہ زینب کو مار دے گا۔ آٹھ ہفتے پہلے سمیرہ نے ایک اور بچی کو جنم دیا تھا اس کے بعد سے عمر زینب کو مارنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔‘

سمیرہ کے مطابق اس کا شوہر رکشا ڈرائیور تھا اور اس کے گھر والے لڑکیوں کی پیدائش سے ناخوش تھے۔

علیم مقبول کا کہنا ہے کہ اس پورے خطے میں بچیوں کو مارنے کا رجحان سنگین مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ نے اس مسئلے پر صرف پاکستان کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔

کئی برسوں سے انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر الزام لگاتی رہی ہیں کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔

زینب کے قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسر بشارت علی کا کہنا ہے کہ اپنی بیٹی کے قتل کے الزام میں خواہ عمر زیب سلاخوں کے پیچھے ہو لیکن پاکستان جیسے ملک میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اسے اپنی بیٹی کو صرف اس لیے قتل کرنے کے لیے مناسب سزا دی جائے گی کیونکہ وہ لڑکی ہے۔

اسی بارے میں