نواز حکومت کے سو دن

نواز شریف
Image caption وقتی حل کے طور پر گردشی قرضہ اتارنے کے لیے مزید قرضہ لیا گیا: اسد سعید

پاکستان میں پرامن انتقال اقتدار کے بعد بننے والی پہلی حکومت مسلم لیگ ن کے سو دن پورے ہو گئے ہیں۔

حکومت نے توانائی، معیشت اور انتہاپسندی جیسے مسائل کو اہمیت دیتے ہوئے ان سے نمٹنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں جن پر بعض حلقے اسے سراہ رہے ہیں تاہم بعض ماہرین کے مطابق نئی حکومت کے اب تک کے فیصلوں سے لگتا ہے کہ وہ ملک کے دیرینہ مسائل کے عارضی حل ڈھونڈ رہی ہے۔

مسلم لیگ ن نے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے توانائی کے بحران سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کی۔ عوام نے چند ہفتے تو انتظار کیا مگر پھر تاریخ کی طویل ترین لوڈشیڈنگ انہیں سڑکوں پر لے آئی۔

مسلم لیگ ن نے سر دھڑ کی بازی لگا کر لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں تو کمی کی اور عوام کو کسی حد تک ریلیف بھی ملا مگر ماہرین کے بقول یہ حل عارضی ہے۔

بجلی چوری، یوٹیلٹی کورٹس کے قیام کا فیصلہ

’خطے کے مقدر کا فیصلہ پاکستان کے بغیر نہیں‘

موجودہ دورِ حکومت میں ہونے والے اہم حملے

معاشی امور کے ماہر اسد سعید سمجھتے ہیں کہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے مسئلے کو حل نہیں کیا جا رہا بلکہ دبایا جا رہا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وقتی حل کے طور پر گردشی قرضہ اتارنے کے لیے مزید قرضہ لیا گیا جو معیشت کو مزید کمزوری کرنے کا سبب بنے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے وقتی حل کی راہ ہی اپنانا تھی تو پھر پہلے بجٹ کے ساتھ ہی گردشی قرضوں کو ادا کیا جاتا جس سے ملکی معیشت پر کم بوجھ پڑتا۔

اسد سعید نے کہا کہ ’یہ کہانی جو ہم نے سنی تھی کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے مسلم لیگ ن نے ہوم ورک کر رکھا ہے، وہ ابھی تک دیکھنے میں نہیں آیا کیونکہ جو پالیسی بنائی گئی ہے اس کی کامیابی عوامی سطح پر غیر مقبول اقدامات سے منسلک ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ مسائل کے دائمی حل کے لیے حکومت عوام کو ناراض کرنے کا رسک مول لےسکتی ہے یا نہیں۔‘

اس کے بعد حکومت نے ملک کو درپیش انتہا پسندی کے مسئلے کی طرف توجہ دی۔ اس مسئلے پر حکومت نے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت کو بھی مشاورت کے لیے بلایا مگر بعض ناقدین کل جماعتی کانفرنسں کے نتائج کو ماضی کی کانفرنسوں سے زیادہ مختلف نہیں سمجھتے۔

صحافی سلیم صافی کے بقول ملک کے سب سے بڑے مسئلے دہشت گردی کو حکومتی ترجیحات میں جگہ بننے میں ضرورت سے زیادہ وقت لگا۔

وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف مغرب اور طالبان دونوں کے لیے قابلِ اعتماد ہونے کے ساتھ ساتھ یہ صلاحیت بھی رکھتے ہیں کہ وہ فوج کے سامنے کھڑے ہو سکیں، مگر ان صلاحیتوں کے ثمرات تبھی سامنے آسکتے ہیں جب وہ پنجاب کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وزیر اعظم بن جائیں۔

سلیم صافی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ’اکثر اوقات نواز شریف اپنی ترجیحات اور اقدامات سے پنجاب کے وزیر اعظم زیادہ اور پاکستان کے وزیرِاعظم کم لگتے ہیں۔ ان کی ترجیحات میں توانائی اور دیگر مسائل تو تھے مگر دہشت گردی کا خاتمہ سرفہر ست نہیں تھا تاہم کچھ دنوں سے انہوں نے اس کو اہمیت دینا شروع کی ہے، خصوصاً عصمت اللہ معاویہ کی جانب سے پنجاب میں حملوں کی دھمکی کے بعد۔‘

تاہم وہ پرامید ہیں کہ نئی حکومت ان خامیوں پر جلد قابو پانے کی کوشش کرے گی۔

حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی غیر مشروط پیشکش نے جہاں بعض ماہرین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں یہ خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں کہ ماضی میں ایسے مذاکرات کی ناکامی کے باوجود مسلم لیگ ن طاقت کے استعمال پر بات نہیں کر رہی جو کہ مستقبل شناسی کے برعکس ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ ’حکومت کی امن کی کوششیں تبھی سود مند ثابت ہوں گی جب فوجی قیادت اور سیاسی قیادت حقیقی معنوں میں کسی ایک پالیسی پر اتفاق رائے پیدا کر لے۔اس سلسلے میں اگر نو ستمبر کو ہونے والی کل جماعتی کانفرنس اپنا کردار ادا کرے تو معاملات کے حل کی راہ نظر آسکتی ہے۔‘

اسی بارے میں