’ڈھائی ماہ میں 547 ارب روپے قرضہ لیا‘

Image caption گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے

پاکستان کے مرکزی بینک نے شرح سود میں پچاس بیسز پوائنٹس کا اضافہ کردیا ہے جس کے بعد شرح سود نو اعشاریہ پانچ فیصد ہوگئی ہے۔ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا۔

سٹیٹ بینک کے گورنر یاسین انور نے کراچی میں مالیاتی پالیسی پر پریس پریفنگ کے دوران کہا کہ موجودہ حکومت نے ڈھائی ماہ کے دوران 547 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے جبکہ یکم جولائی کے بعد سے روپے کی قدر میں پانچ فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

پاکستان کے لیے 6.7 ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری

’دو ماہ میں گردشی قرضے ختم کریں گے‘

ہمارے نامہ کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا تھا تاہم اس وقت امن و امان کے مسائل اور توانائی کے بحران کی وجہ سے نجی شعبہ بہت کم قرض لے رہا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں سٹیٹ بینک کے گورنر کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں حکومت کی جانب سے جنرل سیلز ٹیکس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں تقریباً تین سال سے شرح سود میں مسلسل کمی کی جارہی تھی جس کی بنیادی وجہ مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی تھی۔

گذشتہ دور ِ حکومت کے آخری دور میں مہنگائی کی شرح نو فیصد سے بھی کم ہوگئی تھی۔ تاہم اب مہنگائی کی شرح میں اضافے کی وجہ سے شرح سود میں ایک بار پھر اضافہ کرنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے ماہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کو معاشی بحران سے بچنے اور معاشی اصلاحات میں مدد دینے کے لیے 6.7 ارب ڈالر کے قرضے دینے کی منظوری دی تھی۔

اس قرضے کی 54 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط جلد جاری کی جائے گی جبکہ بقایہ رقم اگلے تین برسوں میں اقساط کی صورت میں دی جائے گی۔

یہ قرضہ پاکستان کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے میں مدد دے گا۔

حکومت پاکستان نے ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ٹیکس چوری اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اسی بارے میں