لاہور:جنسی زیادتی کا ایک ’ملزم‘ گرفتار

Image caption پاکستان میں کمسن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس کے مطابق جمعہ کو کمسن بچی سے جنسی زیادتی کرنے والے ایک مبینہ ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

لاہور پولیس کے سربراہ چوہدری شفیق کے مطابق ملزم کو ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا یہ ہی اصل ملزم ہے۔

پولیس نے اس واقعے میں ملوث چند دیگر افراد کو شامل تفتیش کرنے کی تصدیق کی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو پولیس نے جنسی زیادتی کے اس واقعے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے۔

لاہور:بچی سے اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج

پنجاب پولیس کے سربراہ خان بیگ کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ کے مطابق مذکورہ بچی کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے نمونے اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سرکاری لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس واقعہ سے متعلق از خود نوٹس لیکر پنجاب پولیس کے حکام سے رپورٹ طلب کی تھی۔

اس رپورٹ میں پنجاب پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایس پی انوسٹیگیشن سول لائنز اور ایس پی سی آئی اے کی سربراہی میں دو مختلف ٹیمیں بنا دی گئی ہیں جبکہ لاہور کے سٹی چیف پولیس افسر ان تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں ملزمان کی نشاندہی تو نہیں کی گئی البتہ پولیس کی ٹیمیں اس ضمن میں اپنے تئیں کوششیں کر رہی ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی ٹیموں نے گنگا رام ہسپتال سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم بچی کو اُٹھائے ہوئے ہسپتال لیکر جا رہا ہے اور جس کے بعد وہ اُسے وہاں چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔

ادھر وزیراعظم نواز شریف نے پنجاب پولیس کے سربراہ اور چیف سیکرٹری کو لاہور میں طلب کر کے اُن سے اس واقعہ سے متعلق رپورٹ طلب کی اور ملزمان کو گرفتار کر کے اُنہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

سی سی پی او لاہور رائے طاہر کے مطابق تفتیشی ٹیم نے اس واقعہ سے متعلق علاقے کے لوگوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں جس سے کسی حد تک ملزمان کے قریب پہنچنے میں مدد ملے گی۔

پنجاب پولیس اس مقدمے میں ہونے والی اب تک کی تفتیش سے متعلق میڈیا کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے آگاہ کرے گی۔

پولیس ذرائع کے مطابق جمعہ کی رات نو بجے کے قریب گنگارام ہسپتال کی پارکنگ لاٹ میں ایک سکیورٹی گارڈ نے بچی کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھا اور اسے اٹھا کر ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے آیا۔ میڈیا پر یہ خبر نشر ہونے کے بعد بچی کے لواحقین ہسپتال پہنچ گئے۔

بچی کے والد واپڈا میں ملازم ہیں اور لاہور کے علاقے مغلپورہ کے رہائشی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بچی اپنے تین سالہ کزن کے ہمراہ گھر کے باہر کھیلنے نکلی اور شام ساڑھے پانچ بجےسے غائب تھی۔ کئی گھنٹے تلاش کے بعد رات ایک بجے انھوں نے تھانے میں بچی کی گمشدگی کی رپورٹ بھی لکھوائی۔

واضح رہے کہ گُزشتہ کچھ عرصے کے دوران کمسن بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں