اپر دیر میں دھماکہ، میجر جنرل سمیت 3 ہلاک

Image caption میجر جنرل ثناء اللہ کئی دن سے اس علاقے میں موجود تھے: آئی ایس پی آر

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں ہونے والے ایک دھماکے میں پاکستانی فوج کے ایک میجر جنرل سمیت دو افسران اور ایک اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ دھماکہ اتوار کو افغان سرحد سے منسلک علاقے بن شاہی میں ہوا۔

’طالبان سے بات چیت کی مخالفت بڑھے گی‘

سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوج کی واپسی کا فیصلہ

پاکستانی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے افسران میں سے میجر جنرل ثناء اللہ کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے تھا اور وہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں تعینات فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ تھے جبکہ ان کے ساتھ ہلاک ہونے لیفٹیننٹ کرنل توصیف 33 بلوچ رجمنٹ کے کمانڈنگ افسر تھے۔

مرنے والے تیسرے فوجی کا نام لانس نائیک عمران بتایا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق میجر جنرل ثناء اللہ کچھ دن سے اس علاقے کے دورے پر تھے اور آج وہ پاک افغان سرحد پر چیک پوسٹ کا دورہ کر کے واپس آ رہے تھے کہ ان کی گاڑی سڑک کنارے نصب دھماکہ خیز مواد کا نشانہ بنی۔

ان کے مطابق اس حملے میں دو فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق تیس برس قبل پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کرنے والے میجر جنرل ثناء اللہ نے سوگوراوں میں بیوہ اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ اپر دیر میں اس سے پہلے بھی شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ستمبر 2011 میں اسی ضلع میں تحصیل براول کے علاقے میں اس وقت کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل جاوید اقبال سوات کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ بھی ہوئی تھی جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے۔ پاکستانی طالبان نے اُس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سنیچر کو ہی صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوج کی بتدریج واپسی کی اصولی طور پر منظوری دی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

اس معاملے پر صحافی اور تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کے حملے کا تعلق سوات اور مالاکنڈ ڈویژن سے ہے اور یہاں مولانا فضل اللہ کا گروپ سرگرم ہے جو کہ کالعدم تحریک طالبان کی ایک شاخ ہے اور اس گروپ سے کسی کا رابطہ نہیں ہوا اور یہ گروہ بات چیت میں شامل بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ مکمل منصوبہ بندی سے کیا گیا اور فضل اللہ گروپ بات چیت کی اس فضا میں اپنی اہمیت اور طاقت دکھانا چاہتا ہے کہ وہ پہلے بھی حملے کر چکے ہیں اور آئندہ بھی اس طرح کے حملے کر سکتے ہیں،

اسی بارے میں