’پرتشدد واقعات میں رواں سال زیادہ ہلاکتیں‘

حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی آٹھ مہینوں کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں پچھلے سال سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال اٹھارہ اگست تک شدت پسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں بھی پچھلے سال کی نسبت اس برس اضافہ ہوا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق شدت پسندوں کے حملوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 425 اہلکار اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ پچھلے سال اس نوعیت کے واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مجموعی طور پر 347 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اعدادوشمار کے مطابق اس سال اب تک دہشت گرد حملوں میں 726 عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں جبکہ پچھلے سال دہشت گردی کے واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 816 تھی۔

وزارت داخلہ کے مطابق رواں سال کے پہلے ساڑھے آٹھ ماہ کے دوران 25 خودکش حملے ہوئے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 97 اہلکار اور 271 عام شہری جان سے گئے جبکہ پچھلے سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 18 خودکش حملے ہوئے تھے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آٹھ اہلکار اور 98 عام شہری ہلاک ہوئے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارتِ داخلہ کے ان اعدادوشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال کی طرح اس سال کے ابتدائی ساڑھے سات مہینوں میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے گھریلو ساختہ بموں یا ’آئی ای ڈی‘ سے کیے گئے ہیں۔

سنہ 2012 میں فرقہ واریت قتل کے 40 مقدمات درج کیے گئے جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 98 ہے جبکہ ان واقعات میں قانون نافد کرنے والے اداروں کے آٹھ اہلکار بھی مارے گئے۔

رواں سال کے دوران قانون نافد کرنے والے اداروں پر شدت پسندوں کی جانب سے 50 راکٹ داغے گئے جن میں ایک اہلکار اور 14 عام شہری مارے گئے۔

قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان واقعات میں ملوث کتنے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اُن کے خلاف عدالتوں میں چلنے والے مقدمات میں کیا پیش رفت ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں