مخلوط نظامِ تعلیم: بچیوں کی تعلیم پر منفی اثر

Image caption اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں سنہ 2006 سے 2012 کے درمیان پرائمری سکولوں کی تعداد میں تقریباً پانچ ہزار تک کی کمی کی گئی

ہماری حکومت بھی عوام کو ایسے ایسے خواب دکھاتی ہے کہ اگر اسکی ہربات پر یقین کر لیا جائے تو محسوس ہو گا کہ پاکستان چند ہی دنوں میں جنت بن جائے گا۔

اب پنجاب حکومت کو ہی لیجئیے چودہ اگست کو ایوان اقبال میں ہونے والی ایک چکا چوند تقریب میں خادم اعلیٰ نے صوبے میں سو فیصد خواندگی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے مہم کا آغاز کردیا۔واہ ! سننے میں تو یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ حکومت کے نقاد بھی اس کی مخالفت نہ کرپائے لیکن کوئی پوچھے یہ ہدف حاصل کیسے ہوگا۔

اس گتھی کو سلجھانے میں تو شاید بہت وقت لگے لیکن حال ہی میں ضلع گجرات کی یونین کونسل ماچھی وال کے گاؤں چھوکر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے لگتا ہے کہ حکومت کی پالیسی کے باعث کم از کم بچیوں کی خواندگی میں تو کمی ہی آئے گی۔

چھوکر میں لڑکے اور لڑکیوں کے دو پرائمری سکول تھے۔ حال ہی میں ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت یہاں دونوں سکولوں کو ضم کر دیا گیا۔ نتجہ یہ نکلا کہ والدین نے اپنی بچیوں کو سکول بھیجنا ہی بند کردیا ہے۔

محمد عباس چھوکر کے رہائشی ہیں ان کی سائیکلوں کو پنکچر لگانے کی دکان ہے۔ عباس کہتے ہیں کہ’ آپ کو پتہ ہے آج کل ماحول کیسا ہے۔ اب انھوں نے بچیوں اور لڑکوں کا ایک ہی سکول کردیا ہے اور یہ ہم برداشت نہیں کرتے۔ اس لیے میں تو بچیوں کو سرکاری سکول نہیں بھیج رہا۔ دو بچیوں کو پرائیویٹ سکول داخل کروایا ہے۔ اس سے زیادہ خرچہ اٹھانے کی ہمت نہیں، اس لیے دو بچیاں مدرسے میں ڈال دی ہیں۔‘

حکومت کے نزدیک تو ریشنلائزیشن پالیسی وسائل کے بہتر استعمال کا نام ہے۔ پنجاب کے وزیرِتعلیم رانا مشہود احمد خان کہتے ہیں۔

’ایک پرائمری سکول پر حکومت کا بہت زیادہ خرچہ ہوتاہے۔ ایک ہیڈ ماسٹر کو ستر سے اسی ہزار روپے تنخواہ دی جارہی ہے اور کم سے کم ایک سکول کو چلانے کے لیے حکومت کو ماہانہ چار پانچ لاکھ روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں تو اگر کسی علاقے میں بچوں کی تعداد ہی کم ہے تو اس کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ وہاں اساتذہ، سکولوں اور وسائل کو اکٹھا کردیا جائے۔‘

اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت پاکستان میں سنہ 2006 سے 2012 کے درمیان پرائمری سکولوں کی تعداد میں تقریباً پانچ ہزار تک کی کمی کی گئی۔

چھوکر کے نمبردار غلام رسول کے مطابق گاؤں میں لڑکے اور لڑکیوں کے الگ الگ سکول ایک عرصے سے موجود تھے اور لوگ بہت شوق سے اپنی بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے پرائمری سکول بھیجتے تھے تاہم مخلوط تعلیم مقامی لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں۔

’ہمارے گاؤں میں بچیوں کے سکول کی عمارت بھی موجود ہے اور لڑکوں کے سکول کی بھی۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ان سکولوں کو ضم کیوں کیا گیا۔ ہمارے گاؤں کا ماحول بہت مذہبی ہے۔ اس لیے لوگ اس بات پر آمادہ نہیں کہ پرائمری سطح پر بھی اپنی لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ پڑھائیں۔ اس وجہ سے کچھ لوگوں نے تو بچیاں سکول سے اٹھا لیں ہیں اور کچھ اٹھانا چاہتے ہیں۔‘

چھوکر کے رہائشیوں کے مطابق یہاں ایک سو تیس بچیاں پرائمری سکول میں زیرِتعلیم تھیں۔ گجرات کی ڈی سی او آصف لودھی کا کہنا ہے کہ کچھ والدین کی جانب سے مخلوط تعلیم پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

’ ایسے چند واقعات ہمارے نوٹس میں آئے ہیں اور ہم انھیں سلجھانے کی کوشیش کر رہے ہیں۔ کچھ والدین نے ہم سے رابطہ بھی کیا ہے ۔ تعلیمی اعتبار سے گجرات میں لوگوں کا رویہ بہت بہتر ہے۔فی الحال یہ اتنا سنگین مسئلہ نہیں ہے۔ ہم نے محکمہ تعلیم کے ساتھ بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے کیونکہ تعلیمی پالیسی ضلعی حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔‘

خواتین کی تعلیم پاکستان میں ایک حساس معاملہ ہے۔ صرف انتہا پسندوں کے حملے ہی نہیں بلکہ کبھی کبھی تو سماجی رکاوٹیں اور معاشرتی مسائل بھی خواتین کو تعلیم کے حق سے محروم کردیتی ہیں۔

سکولوں کے ادغام سے صرف مخلوط تعلیم کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوا بلکہ کئی علاقوں میں بچیوں کے گھروں سے سکولوں کا فاصلہ بھی بڑھ گیا ہے۔

حال ہی میں یونیسکو ادارہ برائے شماریات کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق سنہ 2005 سے 2009 کے دوران پاکستان میں ناخواندہ بچیوں کی تعداد میں 10 لاکھ کا اضافہ ہوا۔

پنجاب حکومت نے سو فیصد خواندگی کے لیے صوبے میں مہم کا آغاز تو کردیا ہے تاہم ریشنلائزیشن کے نام پر سکولوں کی تعداد میں کمی سے بچیوں کی شرح خواندگی میں اضافہ تو نہیں کمی ہوتی ہی دکھائی دے رہی ہے۔

اسی بارے میں