رہائی نہیں چاہیے: فقیر کی صدا یا خاندانوں کی فریاد

Image caption اگر یہ سب سچ ہے تو کیا وجہ ہے جو انہیں ایسا کرنے کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے؟

پاکستانی خفیہ اداروں کی سب سے زیادہ غیر خفیہ کارروائی کیا ہے؟ اس کے بارے میں شاید ہی کسی کو کوئی شک ہو۔

اور اگر کسی کے ذہن میں کوئی شک ہے بھی تو یقیناً ملک کے سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے ملزم کے بری ہو جانے کے باوجود بھی جیل چھوڑنے سے انکار سے یہ شک دور ہو جانا چاہیے۔

مشرف پر حملے کے ملزم کا جیل چھوڑنے سے انکار

اڈیالہ جیل: ’افراد ہماری تحویل میں‘

بدھ کے روز رہا ہونے والے شخص رانا فقیر حسین نے جیل سے باہر آنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں خدشہ ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار انھیں مار دیں گے۔

رانا فقیر آٹھ سال سے جیل میں ہے جس دوران اس کے خاندان کے تیرہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے لیکن وہ رہائی ملنے کے باوجود ایجنسیوں کے خوف سے جیل چھوڑنے سے انکاری ہے۔

ملک کی عدالت عظمٰی میں کئی دفعہ کہا جا چکا ہے کہ چاہے وہ بلوچ ہوں یا کوئی اور، پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں لوگوں کی گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہیں۔

اکثر پاکستانی صحافی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو بھائی لوگ کہتے ہیں جو عام فہم زبان میں مافیا کو کہا جاتا ہے۔

چاہے کوئی انسانی حقوق کا ادارہ ہو، سیاسی ورکر ہو یا تجزیہ کار، اکثریتی رائے یہی ہے کہ خفیہ اداروں کی یہ غیر خفیہ کارروائی وفاق کی اکائیوں میں غم، غصے، دوری اور اجنبیت کا باعث بن رہی ہے۔

اگر یہ سب سچ ہے تو کیا وجہ ہے جو انہیں ایسا کرنے کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے؟ کیا ہمارے خفیہ اداروں کی ان عوام دشمن بلکہ انسانیت دشمن کارروائیوں کو روکنے کا کوئی ذریعہ نہیں؟

معاملہ صرف رانا فقیر کا ہی ہو تب بھی اسے نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن آٹھ سال بغیر کسی ثبوت کے جیل کاٹنے والے اس فقیر کی صدا ایک شخصِ واحد کی آواز نہیں بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کی فریاد ہے جن کے پیارے ہمارے خفیہ اداروں کی غیر خفیہ کارروائیوں کی نظر ہو چکے ہیں۔

حیرانی کی بات ہے کہ پورے ملک میں کوئی ایسا عہدہ یا ادارہ نہیں جو انہیں روک سکے۔

اسی بارے میں