حکومت، طالبان مذاکرات کا مستقبل

حکومت کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے کہیں کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں جانب سے اپنے موقف میں لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ حکومت امن کے قیام کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا چاہتی ہے۔

کل جماعتی کانفرنسز پہلے بھی منعقد کی گئیں، سیاسی اور عسکری قوتوں کو اعتماد میں لیا گیا تاہم مذاکرات کسی نتیحجے پر نہیں پہنچے تھے۔

’دہشتگرد طاقت کے زور پر شرائط نہیں منوا سکتے‘

حکومت کے اخلاص، اختیار پر شک ہے: طالبان

کوئی ایکشن نہیں، طالبان سے بات ہوگی

پاکستان میں گیارہ مئی کے عام انتخابات سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام نے اسلام آباد میں علیحدہ علیحدہ کل جماعتی کانفرنسز منعقد کیں، ان کا اعلامیہ ایک ہی تھا کہ مزاکرات شروع کرنے چاہییں۔

جمعیت علماء اسلام ف نے مفتی عبدالشکور کی سربراہی میں ایک جرگہ تشکیل دیا تھا جس نے قبائلی علاقوں کے دورے کیے اور مذاکرات کے لیے راہ ہموار کردی تھی لیکن ان کے مطابق اس وقت مقتدر قوتیں نہیں چاہتی تھیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔

مفتی عبدالشکور نے کہا کہ اس وقت طالبان نے مثبت رویے کا اظہار کیا تھا تاہم آج کی صورت حال پہلے والی نہیں ہے کیونکہ اعتماد سازی کے حوالے سے طالبان اور مقتدر قوتیں پریشان ہیں۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق سابق کمشنر ملاکنڈ ڈویژن فضل کریم خٹک ماضی میں حکومت اور طالبان سے درمیان مذاکرات کے حوالے سے کوششیں کرتے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے دونوں جانب سے خلوص نیت ہونی ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے آغاز میں دونوں جانب سے سخت موقف پیش کیا جاتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ نرمی آجاتی ہے اور اب جو واقعات پیش آئے ہیں ان سے ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ مذاکرات آگے نہیں بڑھیں گے لیکن ہاں ان واقعات سے اس عمل کو دھچکہ ضرور لگا ہے ۔

سابق کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے کہا کہ دونوں جانب سے اعتماد بحال کرنے کی کوشش ہونی چاہیے اور اس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں فریقین اپنے اپنے مفادات کے تحت ہی کام کریں گے تو پھر اس کا کوئی بہتر نتیجہ نہیں نکلے گا۔

سیاسی تجزیہ کار خادم حسین کہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ مذاکرات کے نام پر وقت ضائع کیا جائے بلکہ دونوں جانب سے اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک طالبان کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے تب تک حقیقی مذاکرات شروع ہونے سے پہلے مذاکرات میں اتار چڑھاؤ کا عمل جاری رہے گا ۔

خادم حسین نے کہا کہ حکومت یا عسکری قیادت کی جانب سے ایسے کوئی اشارے نہیں مل رہے کہ مذاکرات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان کی جانب سے بظاہر کوئی واضح شرائط سامنے نہیں آئے بلکہ دو روز پہلے تحریک طالبان کے ترجمان نے کہا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کرے جس سے واضح ہو کہ حکومت مخلص اور بااختیار ہے ۔

دوسری جانب عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

اس ساری صورت حال میں مبصرن کہتے ہیں کہ دونوں جانب سے اگر مخلصانہ کوششیں کی جائیں تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں