خیبر ایجنسی: تیراہ کے متاثرین کی واپسی

Image caption گزشتہ تین روز میں کوئی ساڑھے پانچ سو کے قریب خاندان واپس اپنے علاقوں کو جا چکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں تیراہ وادی کے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ کوہاٹ اور صدہ کے علاقوں سے تو شروع کر دیا گیا ہے لیکن بعض قبائل میں اختلافات کی وجہ سے کچھ علاقوں کو واپسی متاثر ہوئی ہے۔

گذشتہ تین روز میں کوئی ساڑھے پانچ سو کے قریب خاندان واپس اپنے اپنے علاقوں کو جا چکے ہیں۔

متاثرین کی واپسی کا سلسلہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہاٹ اور صدہ سے شروع کیا گیا اور ابتدائی مرحلے میں برقمبر خیل اور ملک دین خیل قبیلے کے لوگوں کو تیراہ میں باغ اور میدان کے علاقوں کے دو مختلف راستوں سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔

فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد حسیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کوہاٹ اور پشاور کے متاثرین کو اورکزئی ایجنسی اور اورنگہ پاس کے راستے تیراہ بھیجا جا رہا ہے جبکہ صدہ درانی کیمپ کے پناہ گزین حیدر کنڈاؤ کے راستے تیراہ جا رہے ہیں، اور ان تمام لوگوں کو تمام سفری سہولیات کے علاوہ ایک مہینے کا راشن بھی فراہم کیا جا رہا ہے ۔

حسیب خان کا کہنا ہے کہ متاثرین کی واپسی کا سلسلہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا اور ان کی واپسی کا دوسرا مرحلہ اگلے سال مارچ میں شروع ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ تین روز میں ساڑھے پانچ سو خاندان اپنے علاقوں میں پہنچ چکے ہیں اور ان لوگوں کو راستے میں ان کی ٹیمیں سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔

کوہاٹ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق برقمبر خیل قبائل میں واپسی کے بارے میں اختلاف پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی واپسی متاثر ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق قبائلیوں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قبیلے کے فیصلوں کے تحت واپس جائیں گے نہ کہ کسی تنظیم سے وابستگی کی بنیاد پر۔

ایف ڈی ایم اے کے عہدیدار نے اس بارے میں کہا ہے کہ پولیٹکل انتظامیہ کے ساتھ قبائلی رہنماؤں کا کلایہ میں جرگہ ہونا ہے جس کے بعد ان کی بھی اپنے شہروں کو واپسی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

تیراہ میں اس سال مارچ میں فوجی آپریشن سے کوئی 50 ہزار افراد نقل مکانی کرکے کوہاٹ ، پشاور اور مختلف قبائلی علاقوں کو منتقل ہو گئے تھے۔

یہ فوجی آپریشن خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے مختلف علاقوں میں بھی شروع کیا گیا تھا جس کے متاثرین اب بھی جلوزئی کیمپ اور کرائے کے مکانات میں رہائش پذیر ہیں۔ گذشتہ ماہ پشاور سے باڑہ روڈ چار سال کی بندش کے بعد کھول دیا گیا تھا جس سے لوگوں کی آمدو رفت کا سلسلہ اب شروع ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں