سابق افغان گورنر طالبان سے جا ملے

Image caption پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں استحکام کے لیے مدد کرنا چاہتے ہیں

افغانستان میں حکام کے مطابق ملک کے ایک سابق سینیٹر اور ضلعی گورنر حکومت چھوڑ کر طالبان کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔

قاضی عبدالحئی 2004 سے 2008 کے درمیان سینیٹر اور بعد میں صوبہ سرائے پل میں ضلعی گورنر رہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اب تک طالبان میں شامل ہونے والے اعلیٰ ترین سرکاری عہدیدار ہیں۔

یہ واقعہ ایک اسے وقت میں پیش آیا ہے جب بین الاقوامی افواج کا 2014 میں افغانستان سے انخلا ہونے والا ہے اور آئندہ سال ملک میں انتخابات ہو رہے ہیں۔

افغانستان نے طالبان سے مذاکرات کی پیش کش مسترد کر دی

دوسری طرف افغانستان میں قیامِ امن کی کوششیں بھی جاری ہیں اوراس سلسلے میں افغان حکومت پاکستان کی مدد کا طلب گار بھی رہا ہے۔

ستمبر کے اوائل میں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے سات طالبان قیدی رہا کر دیے ہیں جس پر افغان امن جرگے کا کہنا تھا کہ ان طالبان کو رہا کرنے سے پہلے ان سے نہ تو مشاورت کی گئی اور نہ ہی پیشگی اطلاع دی گئی۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان طالبان کو ’افغان مفاہمت کے عمل میں مزید مدد دینے کے لیے‘ رہا کیا گیا۔ پاکستان نے یہ قدم اس وقت اٹھایا تھا جب اس وقت افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس وقت کہا تھا کہ وہ افغانستان میں استحکام کے لیے مدد کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ رہا ہونے والے قیدیوں میں عبدالسلام بریالی، منصور داد اللہ، سید ولی، کریم آغا، محمد زئی، گُل محمد، شیر افضل شامل ہیں۔

حامد کرزئی نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرے کیوں کہ اس کا طالبان پر اثر و رسوخ ہے۔

افغان صدر خاص طور پر طالبان کے سیکنڈ ان کمان ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کے متمنی تھے، جنھیں 2010 میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں