توہینِ مذہب کے قانون کی اصلاح

Image caption ایسے موقعوں پر لوگ عقل کی بجائے جذبات سے کام لیتے ہیں۔ محمد حنیف

پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل نے حال ہی میں حکومت کو تجویز دی ہے کہ توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال کرنے والے شخص کو بھی وہی سزا دی جائے جو جُرم ثابت ہونے کی صورت میں کسی ملزم کو دی جاسکتی ہے۔

پاکستان کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کونسل کی یہ تجویز کتنی کارآمد ثابت ہوگی؟ اور کیا پاکستان میں توہین مذہب کےقانون کا غلط استعمال اس سے بند ہوجائے گا؟ یہ تجویز کس حد تک منطقی ہے کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے موقعوں پر لوگ عقل کی بجائے جذبات سے کام لیتے ہیں۔

سینئر صحافی و مصنف محمد حنیف کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں فوری طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ کونسل اس بات کو ماننے لگی ہے کہ توہین مذہب سے متعلق جو بہت سے کیسز بنائے جاتے ہیں اُن میں الزام کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔

وہ کہتے ہیں کہ کوئی ذاتی جھگڑا ہوتا ہے یا کوئی اور رنجش ہوتی ہے۔ محمد حنیف بتاتے ہیں کہ ہم نے دیکھا ہے کہ تحقیقات بعد میں ہوتی ہیں اور الزام لگتے ہی اُس شخص کو عوام کے کٹہرے میں مشتعل افراد سزائے موت سُنا دیتے ہیں۔ ’اُن میں سے بہت کم ہی خوش قسمت ہوتے ہیں جو زندہ بچ جاتے ہیں اور ایسی صورت میں انہیں اپنا گھربار، گاؤں و علاقہ چھوڑ کے ملک سے باہر جاکر پناہ لینی پڑتی ہے۔‘

اسی موضوع پر تاریخ دان ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ ضیاء الحق کے دور سے ہی جب یہ قانون بنایا گیا، تب سے کہا جارہا ہے کہ توہین مذہب کے قانون میں اصلاح کی گُنجائش موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے اس قانون کے غلط استعمال سے متعلق کوئی تجویز آئی ہے تو اس ضمن میں فوری طور پر ترمیم کردینی چاہیے۔

پاکستان میں توہین مذہب سے متعلق لوگوں کی جذباتیت کے پیش نظر انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تاخیر کی صورت میں اس معاملے پر سیاست بھی شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر عوامی رائے ہموار کر کے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس قانون میں ترمیم ایسے لوگوں کی مدد کرنے کے مترادف ہوگی جو اس کے خلاف ہیں۔

لیکن پاکستان میں کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئر پرسن زہرہ یوسف سزائے موت کے خلاف ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں پہلے ہی 27 ایسے جرائم ہیں جن کے تحت موت کی سزا دی جاتی ہے، اس لیے اس میں مزید اضافے کے بجائے کوئی اور طریقہ ڈھونڈنا چاہیے۔

پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال پر سزا کی تجویز کو مختلف حلقوں میں اس لیے بھی خوش آئند قرار دیا جارہا ہے کہ یہ شاید پہلی دفعہ ہے کہ مذہبی علما نے کُھل کر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے معصوم اور بے گناہ افراد مارے جاتے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے شخص سے ہمدردی یا اُس شخص کے حق میں بات کرنے والے کی جان کی کیا ضمانت ہوگی۔

اسی بارے میں