ظفر بلوچ سپردِ خاک،لیاری میں کاروبار بند

Image caption وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے 24 گھنٹے میں اس واقعے کی انکوائری رپورٹ طلب کی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے لیاری میں بدھ کی شب مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے امن کمیٹی کے رہنما ظفر بلوچ کو سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

ظفر بلوچ کی ہلاکت پر جمعرات کو لیاری میں کاروبارِ زندگی معطل اور بازار بند رہے۔

ان کی نمازِ جنازہ لیاری کے فٹبال سٹیڈیم میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں میوہ شاہ قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

ظفر بلوچ کی نمازِ جنازہ میں پیپلز پارٹی کے متعدد رہنما شریک ہوئے۔ اس موقع پر جماعت کے رہنما عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشن جاری ہیں ظفر بلوچ کی ہلاکت سے ذہنوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے 24 گھنٹے میں اس واقعے کی انکوائری رپورٹ طلب کی ہے جس کی روشنی میں ہی پیپلز پارٹی آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کرے گی۔

خیال رہے کہ ظفر بلوچ پاکستان پیپلز پارٹی کے پرانے کارکن تھے۔ وہ دو ہزار دو کے بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسلر منتخب ہوئے، اس کے بعد پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

بعدازاں وہ 2008 کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر پارٹی سے بغاوت کرنے والے دھڑے میں شامل رہے اور جب عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت نے پیپلز امن کمیٹی قائم کی تو ظفر بلوچ اس کے ترجمان کے طور پر سامنے آئے۔

ان پر ماضی میں بھی دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ شدید متاثر ہوئی تھی۔

ادھر کراچی پولیس نے انتہائی مطلوب افراد کی نئی فہرست جاری کی ہے۔ اس ریڈ بک میں تحریکِ طالبان پاکستان کے 44، لشکرِ جھنگوی کے 28، سپاہِ محمد کے 10 اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے 14 ارکان کے نام شامل ہیں۔

اسی بارے میں