رینجرز کو نظربندی کے اختیارات کی تجویز

فائل فوٹو
Image caption توجہ ایک ایسے ادارے کے قیام پر ہے جو ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کی نگرانی اور رابطہ کاری کرے: وزیرِ داخلہ

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت پیرا ملٹری فورس رینجرز کو نظربندی کے اختیارات بھی دینے کی بات کی گئی ہے تاہم وہ یہ اختیار صوبائی حکومت کی اجازت کے بعد استعمال کریں گے۔

کابینہ کا اجلاس جمعہ کو وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں ہوا جس میں وفاقی وزیر زاہد حامد نے انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کی سفارشات پیش کی جن پر غور کے بعد ان کی منظوری دے دی گئی۔

انسدادِ دہشتگردی کے لیے نئی پانچ نکاتی پالیسی

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انسدادِ دہشتگردی ایکٹ میں دہشت گردی کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ بھتہ خوری میں پولیس افسر اس مقدمے کا مدعی ہوگا۔

اس ترمیمی مسودے میں پیرا ملٹری فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزاحمت کی صورت میں شدت پسند، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث افراد کو گولی مارنے کا بھی اختیار ہوگا۔

انسداد دہشت گردی کے مجوزہ ترمیمی مسودے میں ایسے مقدمات میں گواہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اُن کے بیانات ویڈیو کے ذریعے بھی ریکارڈ کرنے کی سفارش کی گئی ہے کیونکہ قانون شہادت میں پہلے ہی سے یہ گُنجائش موجود ہے۔

تجویز کردہ ترامیم کے مطابق ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے سے قبل 90 دن تک حراست میں رکھا جا سکے گا اور یہ حراست کسی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی۔

ملزمان کو تین ماہ تک زیرِ حراست رکھنے کی تجویز گزشتہ دورِ حکومت میں بھی سامنے آئی تھی تاہم اسے پارلیمان کی منظوری حاصل نہیں ہو سکی تھی۔

کابینہ کے اجلاس میں منظور کی جانے والی ترامیم کے مطابق اب سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی گواہی بھی عدالت کے لیے قابل قبول ہوگی اور جو اہلکار کسی بھی شدت پسند کو گرفتار کرے گا وہی گواہی کے لیے عدالت میں بھی پیش ہوگا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے شدت پسندی کے مقدمات میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی گواہی کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔

ایک ترمیم میں دہشتگردی کے مقدمات میں سرکاری وکلاء اور گواہان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ترمیمی ایکٹ میں خصوصی عدالتیں بھی بنانے کی منظوری دی گئی ہے جو تین ماہ کے اندر شدت پسندی کے مقدمات کا فیصلہ کریں گی۔ پاکستان میں دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں پہلے سے ہی قائم ہیں۔

ایک اور ترمیم کے تحت رینجرز کو تفتیش کے اختیارات بھی دیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ حکومت نے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے رینجرز کو یہ اختیار پہلے ہی خصوصی طور پر دیا ہوا ہے تاہم اب اسے قانون کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

ترمیمی ایکٹ میں دہشت گردی کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے علاوہ اس سلسلے میں موبائل پر ایس ایم ایس بھیجنے والوں کو بھی سزا دینے کی تجویز ہے۔

کابینہ کے اجلاس کی کارروائی سے واقف ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی فرد کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے والی رقم کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ایسے شواہد ہوں کہ اُسے شدت پسندی کی وارداتوں میں استعمال کیا جائے گا تو انہیں اُس کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

پاکستان میں انسدادِ دہشتگردی کا قانون 1997 میں پہلی مرتبہ منظور کیا گیا تھا۔ گزشتہ دورِ حکومت میں سنہ 2010 میں بھی اس قانون میں ترمیم کے لیے کابینہ کی جانب سے منظوری دی گئی تھی تاہم یہ ترامیم پارلیمان سے منظور نہیں ہو سکی تھیں اور یہ معاملہ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی سطح پر دب کر رہ گیا تھا۔

خیال رہے کہ موجودہ حکومت ابتداء میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی پالیسی کا مسودہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی بنیاد پر تیار کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ تاہم وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے اصرار پر وزیراعظم نواز شریف نے پالیسی کا مسودہ پہلے تیار کرنے اور پھر اسے سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملک میں انسدادِ دہشتگردی کی نئی پالیسی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے انسداد دہشتگردی کے قومی ادارے ’نیکٹا‘ کو فعال بنانے اور ملک کی تمام خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں پر مشتمل ایک مشترکہ انٹیلیجنس سیکرٹیریٹ قائم کرنے کا اشارہ دیا تھا۔

اسی بارے میں