پاکستان مہمان نوازوں کا ملک ہے: منی شنکر

Image caption غیر سرکاری تنطیم کی جانب سے منعقدہ غیر رسمی مزاکرات کا اسلام آباد میں آج پانچواں دور تھا۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی رکنِ پارلیمان منی شنکر کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس مرتبہ ان کے مزاج میں گرمی کچھ زیادہ تھی اور انھیں ذرا سی بات پر جلدی غصے آ جاتا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے بھارت کی مذاکرات میں سنجیدگی سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر وہ کچھ ناراض سے ہو جاتے کہ مسئلہ سنجیدگی کا نہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے انہتاپسندی کے خاتمے کے لیے ناکافی اقدامات کا ہے۔

’برِصغیر کو دوبارہ سونے کی چڑیا بنا سکتے ہیں‘: ویڈیو

اجلاس کے بعد منی شنکر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرتاج عزیز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کی تجویز مذاکرات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کو اس موقع کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے تاہم ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو باہمی تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں۔

غیر سرکاری تنطیم کی جانب سے منعقدہ غیر رسمی مذاکرات کا اسلام آباد میں آج پانچواں دور تھا۔

مذاکرات میں بھارت کی گیارہ جبکہ پاکستان کی سات سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمان نے حصہ لیا۔

اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے سیاسی رہنماؤں میں سندھ طاس معاہدے پر دونوں حکومتوں کی جانب سے عمل درآمد پر روز دیا۔ تاہم شرکاء نے پریس بریفنگ میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے جانی نقصان پر بات کرنے سے اجتناب کیا۔

منی شنکر نے سے گفگتو میں جب تجارتی تعلقات سے متعلق بات ہوئی تو کہنے لگے ’ان معاملات میں تاخیر مجھے ذاتی طور پر تنگ کر رہی ہے کیونکہ مجھے پاکستان کے انار بہت پسند ہیں‘۔ پھرر بولے ’شاید جاتے ہوئے کوئی مجھے کوئی ایک پیٹی انار تحفے میں دے دے کیونکہ پاکستان مہمان نوازوں کا ملک ہے‘۔

منی شنکر سے جب ان قوتوں کے بارے میں پوچھا جو دونوں ممالک کے تعلقات میں گرم جوشی نہیں چاہتے تو کہنے لگے’ آج بھی سیاسی اور فوجی حلقوں میں بعض ایسے لوگ ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ان کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے تاہم انھوں نے اس کی تفصیل میں جانے سے انکار کر دیا۔

میں نے بھارت میں پاکستان مخالف حلقوں کی یاد دہانی کرائی تو کہنے لگے ’بھارت میں بھی ایسے مسائل ہیں جس کے لیے میں ہمیشہ انھیں کہتا ہوں کہ تمام بھارتی جماعتوں کو آپس میں بھی اس سلسلے پر مذاکرات کرنے چاہیے تاکہ محبت کے روابط بڑھائے جا سکیں‘۔

بھارتی جنتا پارٹی کے رکن کرتی آزاد سے جب پاکستان مخالف جذبات کے ذریعے ووٹ لینے کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب ملا ’ ہم بھارت میں پاکستان سے زیادہ آپس میں ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں‘۔

پاکستانی سینیٹر حاجی عدیل نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ہم نے آپ کو دلیب کمار، شاہ رخ خان اور مددو بالا جیسے بڑے نام دیے اور آپ نے ہمیں جنرل مشرف اور ضیا الحق دیے ہیں، اس پر بھارتی شرکاء کچھ زیادہ محظوظ نہیں ہوئے لیکن حاضرین کی اکثریت کا کہنا تھا انھوں نےگاندھی کے یہ الفاظ ’ایشور اللہ تورے نام سب کو سنتی دے بگوان‘ دہرا کر کہ سب کا دل جیت لیا۔

اسی بارے میں