بارودی کوریئر سروس

Image caption پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کوہاٹی گیٹ کے قریب ایک چرچ پر دو خودکش حملے ہوئے

پشاور میں کوہاٹی گیٹ چرچ کے درجنوں عبادت گزار بھی ان پاکستانیوں میں شامل ہوگئے جو گذشتہ 12 برس کے دوران بارودی لفافوں میں آسمانی پتے پر کورئیر کردیے گئے۔

یوں ساتویں آسمان پر اس وقت لگ بھگ پچاس ہزار پاکستانی بین المذاہب و بین النسل ڈائلاگ میں مصروف ہیں اور روزانہ بیس سے پچیس نئے مندوب جسم کی آلائش سے آزاد ہو کر اس جلسے میں شرکت کے لیے پاک زمین سے روانہ ہو رہے ہیں۔

اب آسمان ہی ایسی جگہ ہے جہاں کا لا اینڈ آرڈر یہاں کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔ کم ازکم وہاں سب عقائد و خیالات کی ارواح ساتھ بیٹھ کر بارود سے پاک ماحول میں مرنے کے خوف سے آزاد کھل کے گفتگو کرسکتی ہیں۔

مگر جو زمین پر اگلے جہان کے سفری منتظر ہیں انہیں بالکل دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ سرکار نے ان کی باری آنے تک ریاستی ٹرانزٹ کیمپ میں خاصے معقول انتظامات کیے ہیں۔ مثلاً ہر مسافر کو اس کی سماجی و منصبی حیثیت کے مطابق ایک لاکھ سے بیس لاکھ روپے بطور زادِ راہ دینے کی سکیم جاری رہےگی۔ ہر عمر کے مسافروں کا دل بہلانے کے لیے کیمپ میں مفت لیپ ٹاپ، نئے ڈیمز، بلٹ ٹرین اور موٹر ویز کے ماڈل، روزگار منصوبوں کے غبارے، انکم سپورٹ پروگرام کے مشینی جھولے، رعایتی قرضوں کی لوڈو، مجرموں کے خلاف آپریشنوں کی غلیلوں جیسے چھوٹے بڑے چمکیلے کھلونے موجود ہیں۔

ان دنوں چونکہ رش کا سیزن ہے لہذا فلائٹ آگے پیچھے ہوسکتی ہے۔ پر یہ یقینی ہے کہ بلآخر سب کی باری آجائے گی۔ جہاں اتنے دن کاٹ لیے وہاں کچھ دن اور سہی۔

پچھلوں نے جس کورئیر کمپنی کو پروفیشنل اور اپنا سمجھ کے یہ سفری ٹھیکہ دیا تھا آج کل اس کے دماغ جانے کیوں آسمانوں پر ہیں۔ لہذا سرکار اس بدتمیز کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے میز پر آمنے سامنے نئی شرائط طے کرنے کے لیے بچولیوں کی مدد سے مخلصانہ کوشش کررہی ہے تاکہ رہ جانے والے مسافر بلا اضافی تکلیف اپنی آخری منزل تک پہنچ سکیں۔ کسی بھی دن کوئی اچھی خبر آ سکتی ہے۔ تب تک ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں اسی طرح برابر کے شریک ہو کر وقت گزاری کرتے رہیے۔

ابھی کچھ دیر باقی ہے یہاں پر شام ڈھلنے میںابھی کچھ دیر باقی ہے یہاں موسم بدلنے میںابھی کچھ دیر میںیہ روشنی دم توڑ جائے گیابھی کچھ دیر میںمل جائیں گے سب خواب مٹی میںابھی کچھ دیر میںساری سلونی صورتوں کا عکسان بے نور آنکھوں سے جدا ہوگاابھی کچھ دیر میںیہ گفتگو کا محل سارا بے صدا ہوگاابھی کچھ دیر میںیاد آئیں گے سب کام دنیا کےجنہیں تکمیل کے رستے میں موت آئیابھی کچھ دیر میںکتنے فسانے یاد آئیں گےجنہیں لکھنا تھا لیکن اس کی مہلت مل نہیں پائیابھی کچھ چلمنوں سے جھانکتی آنکھوں میں پوشیدہ اداسی یاد آئےگیابھی کچھ دیر میں،جو بھول بیٹھے تھے، وہی بھولی کہانیکسی ٹوٹے ستارے کی طرح پل بھر فلک پر جگمگائےگی،ذرا سی یاد آئے گی۔ابھی کچھ دیر میں،اس زندگی کے سب مناظرآنکھ کے دربار میں یوں ہوں گے صف آراکہ جیسے جنگ کے ہنگام میں اک فاتحِ عالمشکستِ فاش سے پہلےکرے اپنے وفاداروں کا نظارہابھی کچھ دیر میںمن موہنے لوگوں کی محفل سے اجازت مانگنی ہو گیابھی کچھ دیر میں باقی رہےگا حال، نہ فرداابھی کچھ دیر میںسارا تماشا ختم ہوگا ، بالیقیں گر جائےگا پردہ

( اخلاق احمد )

اسی بارے میں